Subscribe Us

White Palace

 

           "سفید محل"


میں تمہیں ملنا تو چاہوں مگر اے میرے پیارے ، اب وہ راہیں گم ہوچکی ہیں راستوں کے پتھر ٹوٹ کر نوکدار ہو چکے ہیں، وہ سفید محل جہاں میرا آنا طے
Dream Land



میں تمہیں ملنا تو چاہوں مگر اے میرے پیارے ، اب وہ راہیں گم ہوچکی ہیں راستوں کے پتھر ٹوٹ کر نوکدار ہو چکے ہیں، وہ سفید محل جہاں میرا آنا طے تھا وہ میرے سامنے ہوتے ہی مجھے نظر نہیں آتا اس نے اپنا رنگ بدل لیا ہے یا میری آنکھوں نے دیکھنے کا زاویہ مگر تم مجھے اس سب میں کہیں سنائی نہیں دیتے ، تمہارے عکس اب تمہارے نہیں دکھائی دیتے یوں لگتا ہے جیسے ہم کسی اور جہاں میں تو ساتھ ہوں مگر اس جہاں کے دھاگوں کا حساب الٹ گیا ہے۔ توڑ ممکن نہیں اور اگر ہو بھی پائے تو دیری نے متوازی کائناتوں کا بھی رخ بدل دیا ہے ۔


میں اب تمہیں وہاں ملوں گی جہاں ناریل کا پانی اپنا ذائقہ قائم رکھے ہوگا، جہاں سالہا سال قحط کے بعد بارش کا قطرہ زمین کی سانسیں بحال کرے گا ۔ جہاں مندروں سے اٹھتی اگر بتی دم گھٹنے کا سبب نہیں بنے گی، جہاں ہم معدوم عمارتوں میں بھی سارے جہاں سے چھپ کر چند لمحے روک لیں گے۔

میں اب وہاں ملوں گی جہاں سفید محل کا کوئی نشان نہیں ہوگا ، جہاں عام سے گھر ہوں گے، چھوٹے ، ٹوٹے پھوٹے جہاں کسی برتن میں چند قطرے پانی کے جینے کی آس کے لیے کافی ہوں گے 

میں اب تمہیں وہاں ملوں گی جہاں کٹی پہاڑی کے چار حصے مل رہے ہوں گے جہاں پر پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہ ہوگی ، میں اس چار ٹوٹے ہوئے کونوں والی پہاڑی کی چوٹی پر سرخ اور نیلا رومال لہراؤں گی ، ہوا کے دوش پر اڑتے اس رومال کے رخ میں سفر کرنا وہ تمہیں وہاں لے کر آئے گی جہاں دو آنکھیں تمہاری منتظر ہوں گی ۔


تم وہاں آنا اور میں تمہیں دیکھتے ہی بھول جاؤں گی کہ ہوا میں کس قدر حبس ہے ، میں تمہیں دیکھتے ہی یوں مسکراؤں گی جیسے قحط زدہ زمین بارش کے پہلی بوند سے پھر سے جی اٹھتی ہے۔


سدرہ ملک

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے