Subscribe Us

Learn To Live For Others

       "دوسروں کے لئیے جینا سیکھو"


دوسروں کے لئیے جینا سیکھو
help others



اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اپنے خاص بلکہ خاص الخاص بندروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا

ويؤثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة ط ومن يوق شح نفسه

فأولئك هم المفلحون)

اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں خواہ نہیں خود شدید ضرورت ہو اور جن کو ان کے خوں کے جیل سے بچایا گیا سو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ ( سورة الحشر 9)

اس آیہ مبارکہ میں ایثار کی ایک لازوال مثال پیش کی گئی اور بتلایا گیا کہ کامیاب لوگ وہ ہیں جو اپنوں کی حرص اور بیل سے بچتے ہیں اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں ۔ دوسروں کو مقدم

ٹھہراتے ہیں خود پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور اپنی انتہائی اور شدید ضرورتوں کو دوسروں کے لئے قربان کرتے ہوئے انار کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ لفظ " يؤثرون‘‘ کا مصدرایثار ہے۔ انار کا ایک معنی یہ بھی

ہے کہ کسی دوسرے کو دنیاوی چیزوں میں اپنے او پر ترجیح دینا یہ وصف لقین کی قوت محبت کی شدت اور مشقت پر صبر کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ (1) مندرجہ بالا آیہ مبارکہ کے شان نزول کے حوالے سے مختلف روایات ملتی ہیں یح بخاری میں مسلم کی ایک مختصر روایت جو احادیث کی دیگر کتب میں بھی موجود ہے رقم کر رہا ہوں ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری کے پاس رات کو ایک مہمان آیا۔اس کے پاس صرف اتنا طعام تھا کہ وہ اور اس کی بیوی پچےکھالیں اس نے بیوی سے کہا بچوں کو سلادو اور چراغ بجھادو اور گھر میں جو کچھ کھانا ہے وہ مہمان کے آگے لاکر رکھ دو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔

"ويؤثرون على انفسهم، (حیح بخاری رقم الید بیش 3798.488g یہ مسلم ترالحدیث 2054) مسلم شریف میں ایک دوسرے مقام پر یہ حدیث پاک تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ یا اللہ اور ان کی زوجہ کا واقعہ ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ واقعہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ سے تعلق ہے۔ شان نزول جو بھی ہو جن کی شان میں یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی ہے ان کی شان اور انکی آن یقینا قابل تحسین اور قابل ستائش ہے ۔ شان نزول کے ساتھ ساتھ ہمیں مقصد نزول کو مدنظر رکھنا ہے کیونکہ مقصد نزول کا تعلق براہ راست ہم سے ہے۔

صاحبو!

ہم جس ماحول میں بستے ہیں ہم جس معاشرے میں جیتے ہیں ہم اس دنیا میں رہتے ہیں ہم جس فضا میں سانس لیتے ہیں۔ کیا یہاں ہر سو اور ہر سمت نفسانفسی نفسی نفسی ، مادہ پریتی خودغرضی ذات پرستی لالچ،ہوسں، حرص، طمع نے اپنے پنجے نہیں گاڑے ہوئے ہیں؟ کیا یہ ساری بلائیں آفتیں اور عفاریت سمیت ہمارے جسموں کو نوچ نہیں رہے ہیں؟ کیا یہ ہمیں بوٹی بوٹی اور تکہ تکہ نہیں کر رہے ہیں؟ کیا یہ ہمیں خون خون اور لہو لہو نہیں کررہے؟ کیا یہ ساری بلائییں، نجس روے اور غلیظ و پلید رستے انسانیت کے دشمن نہیں ؟ یقینا ہیں۔ اگر ایسا ہے تو میں وہ راستہ تلاش کرنا ہے وہ راہ نکالنی ہے اور اس جادہ پہ گامزن ہونا ہے جو ہمیں انسانیت سوز اور انسانیت کش بلاؤں اور آفتوں سے بچائے۔ بد حالی اور ذلت سے نجات دلائے اور جینے کی امید و کرن دکھائے ۔ بس ایک ہی راستہ ہے اور ایک ہی سبیل ہے دوسروں کے لئے جینا سیکھو۔

ایک مرحلہ پر رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ساری مخلوق اللہ تعالی کا کنبہ ہے اور الله تعالی سب سے زیادہ محبت اس شخص سے کرتا ہے جو اس کے کنبہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اس کوزیاد واق پہنچائے‘۔ (مشکو حد بیٹ 4999) ذرا اس حدیث پاک پرنور کی وہ خالق ارض و ا جو نبیہ اور قبیلہ سے مبرا ہے اور Family اور amily Concept'ات پاک ہے بطور تمثیل ساری مخلوق کو اس کا کنبہ قرار دیا گیا اور بیتو آپ جانتے ہی ہیں کہ مخلوق میں صرف انسان اور حیوان بھی شامل نہیں بلکہ جان دار

اور بے جان معلوم اور نامعلوم سب اپنی مخلوق میں شامل ہے ۔ اللہ رب العزت سب ست زیبا و محبت اس سے کرتا ہے جو اس کی مخلوق اور اس کے کنبہ سے اچھا سلوک کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر

رحم کرو تم اہل زمین پر

خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

دوسری جانب ایک ایسا شخص جس کے پاس نماز روزہ اور زکوۃ وغیرہ سب کچھ ہے لیکن لوگوں سے اس کا برتاؤ اور رویہ اچھا نہیں تو وہ شخص دیوالیہ پن کا شکار ہے اور دیوالیہ ہو چکا۔ 

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ دیوالیہ وہ ہے سحاب کرام نے عرض کیا: ہم میں دیوالیہ دن ہے جس کے پاس کوئی مال اور دور تم نہ ہو۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

: میری امت کا والی وہ شخص ہو گا جس کے پاس قیامت کے دن نماز روزہ اور ز کو ۃ ہوں گے لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر جھوٹا الزام لگایا ہوگا کسی کا مال کھایا ہوگا کسی کو

قتل کیا ہو گا اور ی کو مارا ہوگا تو اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن پر اس نے زیادتی کی ہوگی اور اگر زیادتیوں کا بدلہ پورا کرنے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جا ئیں گی تو مظلوموں کے گنا نکال کر اس نظام کے نامہ اعمال میں ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا (2)۔

مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو دیوالی قرار دیا جس کے پاس روز وز کو اور عبادات کی کچھ ہے گویا وہ نقوق اللہ کی پوری طرح پاسداری کرتا ہے لیکن حقوق العباد سے عاری ہے۔بس وہ دیوالیہ ہے

 دوسروں کے لئیے جینا سیکھو

       
دوسروں کے لئیے جینا سیکھو
when i help others my life flourishes

 اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ یہ حدیث پاک ہمارے ضمیر کو جنجھوڑنے کے لئے کافی ہے کہ الہ تعالی کیلئے کی جانے والی عبادات غارت ہو جاتی ہیں اگر بیند و اللہ کے بندوں سے معاملات کے حوالے عد م توجه برتتاہے اور اس کے بال دوسروں کے لئے جینے کا احساس مرتا ہے۔

صاحبوا

ہمارا دین دین اسلام دین فطرت ہے جو ہماری تمام روحانی اور طبعی ضرورتوں کو پورا کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر زمانے اور ہر عہد کے جملہ مسائل اور مشکلات کا علم دین کے اندر موجود ہے اور ان مسائل و مشکلات کو دین سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ دین کے اندر کسی ترمیم

Amendment کی ضرورت ہے۔ آج دنیا بھر میں حقوق انسانی اور ساری خدمت کیلئے تو میں چدائی

جارہی ہیں ۔ ہر جگہ LIuman Rights اور Social Welfare کا شور وغونہ ہے۔ حقیقت یہ ہے

کہ دین اسلام اس طرح کی متاثر کن قدروں سے مالا مال ہے اور یہ بھی ایک حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ماڈرن تھر میں دین اسلام سے ہی خوش بینی کرتی ہیں ۔ Charity اور Social Welfare کا تصور سب سے پہلے دین اسلام نے ہی متعارف کروایا۔ اسلام اور سادگی خدمت ایک الگ موضوع ہے جس پر ماڈران تحریکیں دین اسلام سے ہی خوشہ چینی کرتی ہیں ۔ Charity اور Social Welfare کا تصور سب سے پہلے دین اسلام نے ہی متعارف کروایا۔ اسلام اور سماجی خدمت ایک الگ موضوع ہے جس پر سیر حاصل بحث و گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن اس وقت یہ ہمارا موضوع نتا نہیں ۔ اس وقت ہم دوسروں کے

لئے جینے اور دوسروں کے لئے ایثار و قربانی کے موضوع پر بات کر رہے ہیں۔ میں چند مثالیں دے کر بات کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں تا کہ وہ Message Convey کرنے میں آسانی ہو سکے جو مقصد

گفتگو ہے۔ ایک دفعہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ رات کی تاریکی میں اپنے گھر سے نکلے تو پہلے ایک گھر میں گئے پھر دوسرے گھر میں گئے ۔ جب صبح ہوئی طلہ رضی اللہ عنہ اس گھر میں گئے (جس میں رات کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ گئے تھے) تو طلحہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اس گھر میں ایک اندھی اپ جب بوڑھی عورت بیٹھی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا یہ رات کو جو آدمی آپ کے پاس آتا ہے اس کا کیا معاملہ ہے؟ اس بوڑھی عورت نے جواب دیا وہ اتنے عرصہ سے میری دیکھ بھال کرتا ہے و ہ میری ضرورت کی چیز یں لاتا ہے اور میر ی تکالیف دور کرتا ہے۔

( سیرت عمر بن خطاب ابن جوزی 62)

اسلم ( جوعمر فاروق رضی الله عن کا نام تھا) کا بیان ہے کہ ایک دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ رات گوشت کے لئے نئے مدینہ سے تین میل پر اسرار ایک مقام ہے وہاں پہنچے تو دیں کہ ایک عورت پیشه پیار کیا ہے اور دو تین پے رورہے ہیں آپ نے اس کے پاس جا کر حقیقت حال دریافت کی ۔ اس نے کہا

کی کئی وقتوں سے بچوں کو کھانا نہیں ملا ان کے بہلانے کے لئے خالی ہانڈ ی پانی ڈال کر چڑھادی ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس وقت اٹھے مدینہ میں آ کر بیت المال سے آنا گوشت کی اور کجھوریں لیں اور اسلم سے کہا کہ میری پیٹھ پر رکھ دو اسلم نے کہا میں لئے پیتا ہوں ۔ فرمایا ناں قیامت میں میرا بارتم نہیں اٹھاؤ گے ۔غرض سب چیز میں خود اٹھائے اور اس عورت کے آگے رکھ دیں۔ اس نے آٹا گوندھا

بانڈی چڑھائی ، حضرت عمر فاروق رضی الله عنه خود چولہا پھونکتے تھے اور خوش ہوتے تھے ۔ عورت نے کہا خدا تم کو خیر یہ تو یہ ہے کہ امیر المومنین ہونے کے قابل تم ہو نہ کہ عمر رضی اللہ عنہ۔

اللہ تعالی کے عظیم وحسین پیغمبر یوسف علیہ السلام مصر کے بادشاہ ہیں ، بیت المال میں ہر طرح کی اشیاء خوردونوش وافر مقدار میں موجود ہیں اور بڑے تسلسل کے ساتھ اشیاء خوردونوش قحط زدہ علاقوں کو روانہ کی جارہی ہیں لیکن جب کھانے کیلئے دستر خوان لاتا ہے تو چند نوالے تناول فرما کر سبد نا یوسف علیہ

السلام دستر خوان سے اٹھ جاتے ہیں ۔ کسی نے کہا اے اللہ کے نبی ، اے شاہ مصر قحط یہاں تو نہیں یہاں وافر مقدار میں اناج موجود ہے لیکن آپ کھانا تناول نہیں فرمارہے ۔ دوسروں کا درد رکھنے اور دوسروں کے لئے جانے والے یوسف نے جواب دیا میں اس لئے کھانا نہیں کھارہا تا کہ قحط زدوں اور جوگوں کو یاد رکھ سکوں ۔ سیر ہو کر کھانا کھا لینے سے کہیں میں بھوکوں سے غافل نہ ہو جاؤں۔حضرت بشر حافی علیہ الرحمہ اللہ رب العزت کے ایک انتہائی مقرب اور صاحب مقام بزرگ گزرے ہیں ۔ ایک مرتبہ ایک صحرا میں اپنی چادر ( گرم لباس ) اپنی کھونٹی پر لگا کر صحرا میں چلنے والی یخ بستہ اور تند و تیز ہواؤں میں بیٹھےٹھٹھر رہے ہیں ۔ ایکتا نہ وہاں سے نز را کسی نے پوچھا کہ کرم اس کو اتار کر صحرا کی ان سرد ہواؤں میں ٹھٹھرنے اور کانپنے کا سبب کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ کئی لوگ ہیں جو سردی کی شدت میں گرم لباس سے محروم ہیں میرا دل یہ چاہتا ہے کہ میں ان سب کو گرم لباس پہنادوں

لیکن میں ایسا کرنے سے قاصر ہوں یہ میرے لئے ممکن نہیں ۔ بس میں نے سوچا ہے کہ اگر میں ان کو راحت و خوشی نہیں دے سکتا تو ان کی تکلیف اور درد کو محسوس کرسکتا ہوں ۔ سو میں اپنی چادر کھونٹی کے ساتھ لگا کر اپنے وجود کو بے یارو مددگار لوگوں کی تکلیف کا احساس دلا رہا ہوں ۔

حضرت داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ نے کشف المجوب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے ایک بڑا سبق آموز واقعہ نقل کیا ہے آپ لکھتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے مہمان نواز اور سخی تھے۔ جب تک دستر خوان پر کوئی مہمان نہ ہو آپ کھانا نہیں کھاتے تھے۔ ایک دفعہ تین روز گزر گئے کوئی مہمان نہیں آیا بالآخر ایک بوڑر ساموی سائل آیا تو آپ نے پوچھا کون ہے؟ جواب ملا

میں بھی ہوں ۔ آپ نے فرمایا

: چلے جاؤ تم میرے مہمان ہونے کے قابل نہیں ہوں۔ اللہ تعالی کی طرف سے وی آئی ۔ اے ابراہیم ! ہم نے اس شخص کی ستر سال تک پرورش کی اور تم اس کو ایک دن بھی روٹی

دینے کے لئے تیارنہیں ہو۔ (کشف المحجوب)


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے