"میاں مجنوں"
![]() |
| قصہ غم |
کہتے ہیں اک بار میاں مجنوں جنگل سے گزرتے اک نماز پڑھتے شخص کے آگے سے گزر گئے۔وہ آدمی اٹھ کے مجنوں کو گریباں سے پکڑ لیا ، ارے میاں آندھے ہو دیکھائی نہیں دیتا نماز پڑھ رہا ہوں ___
پہلے تو مجنوں میاں معذرت خواہ ہوئے پھر فرمانے لگے حضرت میں تو عشق لیلی میں اسقدر کھو گیا ہوں دنیا دیکھائی نہیں دیتی ۔۔آپکی اللہ سے کیسی محبت ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے بھی دیکھ رہے ہو کون گزرا کون کدھر کو گیا ہے___
تو میم سے عین بنا تھا کیوں ، اب چین سے بین بنا ہے کیوں
میں آج تک پوچھتی پھرتی ہوں میرے پیروں میں زنجیر ہے کیا۔۔۔۔۔
حضرت ہمیں بھی دنیا کچھ بھی کہے ہمارے عقل پہ پردے پڑ گئے ہیں ہمیں بھی اک صورت کے سوا کچھ دیکھائی نہیں دیتا ہمارے کانوں کو بھی اسکی سماعت کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا ،لاکھ کوشش کر ہارے مگر دل ہے کہ باغی ہوا جاتا ہے۔اتنا باغی کہ حضرت کی گلی کا کتا جہاں پاؤں رکھے دل وہاں لب رکھنے کو تیار ہے، ارے یہ نہ سمجھو ملن نہیں ہوا تو عشق کیسا ارے ہم تو عاشق ہیں اور عاشق کو کیا غرض وہ دیکھائی دیتا ہے یا نہیں وہ سنائی دیتا ہے یا نہیں ارے جناب ہمارے لئیے تو اس چمکتے چاند کی زیارت کافی ہے جو اسکے مکان پہ آب وتاب سے اس کی ضیاء سے منور ہے ہمارے لئیے تو یہ گزرتی ہواؤں کا بوسہ کافی ہے جو ان کو چھو کے ان سانسوں کی گرمائش کی خوشبو ساتھ لئیے پھرتی ہیں ۔حضرت آپ عاشق نہیں بن سکتے تو ملا قاسم بننے کی بھی کوشش نہ کریں نا یہ تو نصیبوں کے کھیل ہیں کوئی بچپن جوانی تاپتک ایمرے کے سنگ گزار کے بھی ملاہی رہتا اور کوئی لمحوں میں عاشق ہوجاتا ہے ارے ہم تو یونس ایمرے کے نقش قدم پہ چلنے کی جسارت کررہے ہیں ہمارے لفظو ں پہ نہ جائیے گا ہم لکھاری تھوڑے ہیں ہم تو عاشق ہیں جناب حضرت کے عاشق___
ان اشکوں ک تو ذکر ہی کیا اےعشق! تجھے لہو سے بھی لکھا
کبھی پڑھ تو سہی ان نوحوں کو تجھے علم ہو تحریر ہے کیا۔۔۔۔۔۔
اور عاشق کیا جانے دنیا کے اصول وضوابط کو عاشق تو بس چاہتا ہےمر جاؤں تو کفن بھی نہ پہنائیں ۔۔ارے حضرت کی استعمال شدہ چادر پہنائیں انکے آنسوؤں کا چھڑکاؤ کریں انکے نام کے وردسے کانوں کو سکون پہنچاؤ تاکہ روح یار کا کلمہ پڑھنے لگے پھر انکی سانسوں کی خوشبوں سے میت مہکاؤ اور قبر میں اتار دو، جس پل قبر مٹی سے بھردوتو حضرت کا تاثیر شدہ ہاتھ بطور تبرک قبر پہ پھیروا دیجئیےبس___ پھر دیکھئیے دوسرے ہی پل جنت کی وادیوں میں محو چہل محبوب کے منتظر دیکھائی دیں گے___
ارے جناب یہ لکھاری کے الفاظ نہ سمجھئیے گا یہ تو عاشق کی زبان ہے عاشق کی حسرت ہے جس دن معشوق تک پہنچ گئی جس دن سمجھنے والا سمجھ گیا سمجھو سارے فاصلے طے ہوگئے_______📝
میں چیٹیاں فجراں لبھدی ہاں
مینوں گھپ اندھیرے لبھدے نے
سانوں دل دا محرم نئیں ملیا
سانوں یار بتیرے لبھدے نے
#ایمی


0 تبصرے