Subscribe Us

Syanay Log

 

    کیا یہ سیانے لوگ ہیں؟ 

الله رب العزت نے قرآن کریم میں کئی مقامات پر عقل اور عقل مندوں کا ذکر کیا ہے بعض مقامات پر کسی خاص پس منظر کاذکر کر کے جنجھوڑ کر کہا گیا   افلا تعقلون ( کیا پھر تمہیں
Sayanay Log



الله رب العزت نے قرآن کریم میں کئی مقامات پر عقل اور عقل مندوں کا ذکر کیا ہے بعض مقامات پر کسی خاص پس منظر کاذکر کر کے جنجھوڑ کر کہا گیا

 افلا تعقلون ( کیا پھر تمہیں عقل نہیں ) 

زیر نظر مضمون میں ہم نے عقل مندوں کیلئے سیانے کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ پرانے زمانے سے ایک ریت چلی آرہی ہے کہ لوگ کسی سیانے سے مشورہ کرنے سیانے سے رجوع کرنے اور

سیانے سے استفادہ کرنے پر زور دیتے ہیں ۔ اگر آپ بیمار ہیں تو کسی سیانے طبیب سے رابطہ کریں۔ اگر آپ کو کسی سے کوئی تنازعہ ہے تو کسی سیانے وکیل سے ملیں ۔ اگر آپ زندگی کا کوئی انتہائی اہم فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو کسی سیانے سے مشورہ کریں ........ الغرض زندگی کے مختلف شعبوں میں اور زندگی کے

مختلف مرحلوں پر ہمیں سیانوں کی ضرورت پڑتی ہے اور سیانوں کو ایک خاص اہمیت حاصل ہو جاتی ہے، سیانے کیلئے ضروری ہے کہ وہ تجربہ کار ہو، سوجھ بوجھ رکھتا ہو، ہوشیار ہو زیک و دانا ہو

وغیره ............. جودھوکہ کھا جائے اس کو کوئی سیانا نہیں کہتا جو فقیر منش ہو اسکو کوئی سیانا نہیں گردانتا۔جو دھن و دولت سے بے پرواہ ہو اسے کوئی سیانا نہیں سمجھتا جو جھوک و افلاس میں مبتلا ہو اس سے کوئی سیانا نہیں مانتا جو جاہ و منصب سے بھاگتا ہو اسے کوئی سیانا نہیں جانتا جو تصنع و بناوٹ سے گریزاں ہو وہ کس طرح سیا نا ہو سکتا ہے ؟ الفرض اسی طرح کے دیگر رویوں اور خصلتوں کے حامل افراد کو بھلا کون سیانوں کی فہرست میں شامل کرتا ہے؟

یہی وجہ ہے کہ دین دار طبقہ ہو یا دین داع طبقہ، دونوں اس طرح کے رویوں اور اطوار و عادات کے حامل اشخاص کو حقیر جانتے ہیں اور ان اوصاف کے حامل لوگوں پر لعن طعن کرتے ہیں ان کا مذاق اڑاتے ہیں ان سے ٹھٹھہ کرتے ہیں اور ان کو گھٹیا سمجھتےہیں ۔ معذرت کے ساتھ یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہاں اس وقت بات بالعموم دین دار اور دین دور طبقہ سے تعلق کی جارہی ہے ان کے اندر پائی جانے والی مستثنیات (Exceptions ) یہاں مردانہیں ہیں۔ ویسے بھی مستثنیات کو زیر بحث لانا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے بہر طور میں گزارش کر رہا تھا کہ دین دار اور

دین دور طبقہ میں کوئی نمایاں فرق نہیں ۔ وہ جاہ و منصب کی ہوس رکھتے ہیں اور یہ بھی جاہ و منصب کی ہوس رکھتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ وہ وزیراعظم اور صدر بن کر اس ہوس کی تسکین چاہتے ہیں اور حلافت کے امین اور امیر المومنین بن کر اپنی ہوس کی تسکین چاہتے ہیں. وہ دھونس دھاندلی اور لوٹ کھسوٹ سے دولت اکٹھی کرتے ہیں اور یہ دھوکہ دہی ، روحانی شعبده بازی اور جعل سازی کے ذر یعہ دولت اکٹھی کرتے ہیں وہ وزارت و تخت و نچینی پہ لڑتے ہیں اور یہ خلافت و سجاده نشینی پر لڑتے ہیں وہ ذرا دکھا کر سامان تعیش کا اہتمام کرتے ہیں یہ ذرا چھپا کر سامان تعیش انتظام کرتے ہیں وہ لوگوں کو جھوٹے وعدوں اور جھوٹے اعدادوشمار کے ذرایہ بے وقوف بناتے ہیں اور یہ سبز باغ دکھا کر اور بناوٹی روحانیت کے ذرایہ بے وقوف بناتے ہیں ۔ وہ نوابزادہ ، سرمایہ دار،

جاگیردار اور سیاست کار کہلواتے ہیں یہ صاحبزادہ پیرزادہ رہبر اور نابغہ روزگار کہلواتے ہیں ۔ وہ بھی نفسانفسی کا شکار ہیں اور بھی نفسی نفسی‘‘ کے مرض سے دوچار ہیں ۔ وہ بھی بکتے ہیں لیکن باہمی و بین الاقوامی تجارت کرتے ہیں ۔ (1) یھی بکتے ہیں مگر در بارشاہی‘‘ میں جا گرتے ہیں (2)۔ دو دین دور ہیں لہذا ان کیلئے دین غیر ضروری ہے۔ یہ دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں لہذا ان کیلئے دین مجبوری ہے

نہ وہ بچے رہبر ہیں اور نہ یہ بچے رہبر ہیں بلکہ کئی اعتبار سے یہ دونوں طبقات برابر میں تعصب حسد کی ابض ہوں منصب وشہرت کو دونوں طبقات متاع حیات جانتے ہیں ۔

کی چند مثالیں دینے کے بعد میں آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں لیکن اس سے قبل قرآن کریم کی آیات پرمشتمل ایک مخضر فہرست آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تا کہ سوالات تھے اور جوابات

دینے میں آسانی ہو سکے ۔ اللہ رب العزت نے اپنے پسندیدہ بندوں کی خصوصیات پر مشتمل ایک طویل فهرست قرآن کریم میں گنوائی ہے اور ان کے اوصاف حمیدہ کا ذکر کیا ہے اسی طرح ناپسندیدہ بندوں کی بھی ایک طویل فہرست گنوائی ہے اور ان کے خصائل رذیلہ کا ذکر بھی کیا ہے۔

پہلے پسندیدہ افراد کی طویل لسٹ میں سے چند مثالیں ملاحظہ کیجئیے۔

1 - واحسنو اج ان الله يحب المحسینین

اور نیکی کرو بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ) البقر 1955

2- ان الله يحب التوابين ويحب المتطهرين

بے شک اللتوی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاکیزگی حاصل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ) آل عمران 222

3- فان الله يحب المتقین

(پسں بے شک اللہ اللہ سے ڈرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ )آل عمران 76

4. والله يحب الصابرین

(اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ) آل عمران 146

5- ان الله يحب المتوکلین

بے شک الله توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ) آل عمران 159

6. ان الله يحب المقسطين

بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ) المائد ہ42

7- ان الله يحب الذين يقاتلون في سبيله صفا كانهم بنیان مرصوص (بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف بستہ ہو کرلڑتے ہیں ) الصف4

اب ذرا ان لو گوں کی فہرست ملسحظہ کیجئے جن کو اللہ پسند نہیں کرتا۔

1. ان الله لايحب المعتدين

بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ) سورت ابتر 19

2- والله لايحب الظلمین ۔

(اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ) سورة آل عمران 140

3. ان الله لايحب من كان مختالا فخوراO

بے شک الله مغرور و متکبر کو پسند نہیں کرتا ) ( سورة النسا.36)

4. ان الله لا يحب من کان خوانا اثيماO

بے شک اللہ ہر اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو بہت بددیانت گناہ گار ہو ) سورة النساء107

5.انه لايحب المستكبرين 0

بے شک وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا) سوره نخل 23


6- والله لا يحب المفسدين 0

(اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ) سورہ المائندہ 64

7- ان الله لايحب الفرحين 0

بے شک اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا ) سورة القصص 76

میں نے اختصار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اللہ تعالی کے پسندیدہ اور ناپسند یدہ افراد کی ایک مختصر

فہرست آپ کے سامنے رکھی ہے یہاں یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ۔ہیں کہ دونوں فہرستوں یا دونوں طرح کی قرآنی آیات میں دو   باتیں مشترک نظر آتی ہیں

ایک ’’ان الــلــہ‘‘ اور دوسری ’’یحب ‘‘ صرف فرق یہ ہے کہ نا پسند ید ہ افراد کی فہرست میں’’ یحب کے ساتھ لا کا سابقہ نظر آتاہے جو نا پسندیدگی کے اظہار کا پتا دیتا ہے ۔ گویا اللہ رب العزت نے پسند ید ہ اور نا پسند ید ہ دونوں طرح کے افراد کا ذکر کرتے ہوۓ ان الـلـه ( بے شک اللہ ) سے آغاز کر کے مہر تصدیق ثبت کر دی کہپسند یدہ افراد کے’’پسند یدہ ہونے اور ناپسندیدہ افراد کے ’’نا پسند یدہ ہونے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

صاحبو!

مندرجہ بالا آیات اور ان سارے حوالوں کو جو سطور بالا میں، میں نے آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے ،کو ذہن میں رکھتے ہوۓ بتایئے ۔ کیا سیانے لوگ وہ ہوتے ہیں جواعلی درجے کے دھو کہ بازہوں ؟ جو جائز و ناجائز میں کوئی امتیاز نہ برتتے ہوں ؟ جولوگوں پر ظلم کرتے ہوں ؟ ...... لوگوں کا استحصال کر تے ہوں؟ ...... جو اپنے اپنے انداز‘‘ سے لوگوں کو لوٹتے ہوں ...... جولوگوں کو MISS


GUIDE اور MISS LEAD کرتے ہوں ؟ جو فرعونیت، نمرودیت اور قارونیت کو پروان چڑھاتے ہوں ....... جو چالا کی اور مکاری کو اپنا شعار سمجھتے ہوں ........ یا ....... اس طرح کی دیگر


خصلتوں کے حامل ہوں .............. کیا آپ انہیں سیانے لوگوں کی صف میں شامل کر نا پسند کر تے ہیں ؟ کیا آپ مکاری چالا کی ہوشیاری عیاری سفا کی، جعل سازی اور مارا ماری کو’’سیا نا پن‘‘ سے تعبیرکرتے ہیں؟


صاحبو!


اللہ وحدہ لاشریک کی قسم میں سب بیوقوف ہیں جو ان فتیح خصلتوں کے حامل ہیں ان کیلئے سراسرخسران اور نقصان ہے، یہ میں نہیں کہتا قرآن کہتا ہے .......... سیانے بس وہ ہیں جو ان ساری آلائشوں سے بچتے ہیں ...... جو دھو کہ میں آجاتے ہیں لیکن دھوکہ دیتے نہیں ۔۔۔۔۔۔ جو تکلیف برداشت کر تے ہیں، تکلیف پہنچاتے نہیں ....... جوظلم سہہ تو جاتے ہیں لیکن ظلم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے ....... ان کو دین دار‘‘اور’’ دین دور‘‘ سب گھٹیا سمجھتے ہیں اور وہ ہر ایک کو اپنے سے اچھا سمجھتے ہیں


...... ہاں ہاں ........ بی دنیا کو ’دنیا‘‘ اور عقبی کو عقبی‘‘ سمجھتے ہیں ...... الغرض ...... وہ ہر حال میں سب کی بھلائی اور سب کیلئے ’’خیر‘‘ کو اپنی زندگی کا مقصد و مدعا سمجھتے ہیں ..... کون لوگ سیانے ہیں اورکون لوگ ایانے ( بیوقوف ) ہیں ۔؟ جب وقت آۓ گا تو ’’ مجری عدالت‘‘ میں اس کا فیصلہ سنایا جائے گ..یقین اس وقت یہ عاجز فقیر بے ضرر مسکین اور غیر موثر‘‘لوگ سرخروہوں گے۔....اور... دنیادار


‘‘’ گے دین دار‘‘ اور ’’دین دور‘‘ سب ان کے’’ دین دار‘‘ ہوں گے۔ ......اور . ’’کھلی کچہری‘‘ میں ان کی عزت افزائی دیکھ کر میلوگ کف افسوس ملیں گے اور بے ساختہ یہ کہیں گے’’میہ میں اصل سیانے لوگ اور سبقت پانے والےلوگ‘‘


صاحبو!


اگر آپ کو اصل سیانوں کی تلاش ہے تو می ضرب المثل ذہن میں رکھ کر تلاش شروع کر دیجئے کہ ” گدڑیوں میں ہی لعل ہوتے ہیں‘‘ ہوسکتا ہے کسی موچی کے روپ میں کسی چھولے فروش کی شکل میں کسی صفائی کرنے والے کے حلیہ میں یامسکین کی صورت میں آپ کو کوئی سیا نامل جائے ...... یا در کھیئے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ہر مرحلہ پر ساتھ نبھانے کی دعا جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے خالق کائنات سے کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔


اللهم احیینی مسکینا و امتنی مسکینا و احشرني في زمرة


المساكين 0


(اے اللہ ! مجھے بحالت مسکین زندہ رکھے اور بحالت مسکین مجھے موت عطاءفرما اور قیامت کے دن مساکین کی جماعت میں میراحشر فرما) (4)


یہ بھی یادر کھیئے اس حدیث پاک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : مساکین اغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے‘‘ مسکین، فقیر عاجز سے مرادکنگال محتاج اور گدا گر نہیں بلکہ اس سے مراد تواضع وانکساری کے حامل افراد میں مجھے اعتراف ہے کہ اصل سیانوں کو تلاش کرنا بڑا کٹھن کام ہے کیونکہ وہ بھی’’ بہروپیے‘‘ ہو گئے ہیں ۔انہوں نے بھی روپ دھارلیا ہے تا کہ نہ’جانے‘‘جائیں نہ پہچانے جائیں اور الجھن سے بچے رہیں ۔


والسبقون السبقون 0


( سبقت لینے والے ہی سبقت لینے والے ہیں ) (5)


  

ایک ’’ان الــلــہ‘‘ اور دوسری ’’یحب ‘‘ صرف فرق یہ ہے کہ نا پسند ید ہ افراد کی فہرست میں’’ یحب کے ساتھ لا کا سابقہ نظر آتا  ہے جو نا پسندیدگی کے اظہار کا پتا دیتا ہے ۔
اللہ کے پسندیدہ لوگ







ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے