Subscribe Us

Rouhaniat

       "روح اور روحانیت" 


قرآن مجید میں بعض موضوعات ایسے ہیں جو انتہائی مشکل اور پیچیدہ ہیں اور اللہ رب العزت نے ان موضوعات اور اشیاء کوخود اپنی ذات کی جانب منسوب کر کے ان کی پیچیدگی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ان پیچیده و مشکل موضوعات اور اشیاء میں ایک موضوع اور روح ہے اس سے قبل کہ ہم اس شکل اور پیچیدہ موضوع اور عنوان کی طرف بڑھیں میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بادی النظر میں کائنات کی ہر شے بڑی سہل رواں دواں اور ضوفشاں دکھتی ہے لیکن بنظر غائر ہر تخلیق پیچیده ۔۔۔۔۔مخلوق پیچیدہ ۔۔۔کام پیچیده....... یہ نظام پیچیدہ........ہر گام پیچیدہ ......... ہر بات پیچیده ۔۔۔ ساری کائنات پیچیدہ .....

 اس کی ذات پیچیده.................لگتا ہے الله کو پیچیدگی بہت پسند ہے

 سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے ہرسو پیچیدگی ہی پیچیدگی نظر آتی ہے اور روح ان پیچیدہ اشیاء میں انتہائی پیچیده شے ہے... جید علماء کرام اور مستند ومحقق مفسرین نے قرآن کریم کی پیچیدہ آیات کے حوالے سے اپنی ممکنہ علمی تحقیقی اور روحانی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان آیات کی تفسیر بیان

کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ایسی آیات کی تشریح با تفسیر میں اختلاف رائے کا اختلاف اقوال ایک فطری امر ہے۔ کئی ایسے بزرگان دین ہیں جنہوں نے مشکل آیات اور مشکل مقامات پر بھی بات نہیں کی اورمختصر بات کرنے کے بعد والله اعلم بالصواب ‘‘ کہ کر آگے نکل گئے اور کئی بزرگان دین صوفیاء کرام ایسے ہیں جوان مشکل مقامات پر شہر گئے اور قلم کومنز پیش نہ دیتے ہوئے سکوت اختیار کر لیا تاکہ کوئی بات ان کے دل میں القا نہیں کر دی گئی ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جن بندگان خداکے دل میں کوئی بات القا‘ کی گئی ان کی رائے میں بھی اختلاف موجود ہے غائباوجہ یہ ہے کہ کیا کے دل میں کوئی ایک نوع کے معانی اور مفاہیم بھائے گئے اور اس کے دل میں کوئی دوسرے معانی اور مفاہیم القاء کر دیئے گئے ۔ انسانوں کا ا ختلاف ہے اور اس بات کا عندیہ بھی کہ  

 وما اوتيتم من العلم الأقليلا

( اور نہیں دیا گیا تمہیں علم مگر بہت تھوڑا)

قرآن کریم اور احادیث روح کا ذ کر مختلف مقامات پر مختلف معنوں میں کیا گیا ہے ابتداءہم نے اس آیہ مبارکہ کو موضوع سخن بنایا ہے جس میں اللہ رب العزت نے روح کو امر ربی سے تعبیر کیا ہےاللہ تعالی نے فرمایا! 

ویسئلونك عن الروح قل الروح من امر ربی

یہ لوگ آپ سے روح سے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرمادیجیئیے کہ روح میرے رب کے امر سے ہے ) روح کی تعریفات اور معانی میں علما کرام نے 70 سے زاند اقوال نقل کئے ہیں کسی نے روح کو

خون سے تعبیر بھی کیا کسی نے سانس کو روح کہا، کسی نے اسکو لطیف جسم کہا ۔ کسی نے انکو حادث کہا اور کسی نے

اسکو قد یم قرار دیا کہیں میں روح او نفس کو ایک ہی قرار دیا گیا اور انہیں ان کو دو الگ الگ اشیا قراردیا

گیا وغیر ہ ۔ بہر حال اس بات پر اتفاق ہے کہ روح زندگی کی علامت ہے اور اس کا تعلق الله تعالی کے امر سے ہے اسی طرح الله تعالی نے روح کو اپنی طرف منسوب کیا ہے یعنی اپنی طرف اضافت کی ہے

علامہ جلال الد ین سیوطی علیہ الرحمہ نے روح سے متعلق دس اہم نکات کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے 

ان اہم نکات کا خلاصہ یہاں پیش کیا جارہا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ جسم حرکت اور تدبیر کیلئے روح کی صورت میں ایک محرک اور مدبر کا مختاج ہے تو یہ عالم بھی ایک مدبر اور محرک‘‘ کا محتاج ہے اور جب یہ محرک اور ۔مد بر واحد ہے تو اس عالم کا مدبر اور محرک بھی واحد ہوگا۔ جب یہ جسم روح کے ارادہ کے بغیرحرکت نہیں کرتا تو معلوم ہوا کہ اس عالم کی کوئی چیز بھی خواہ خیر ہو یا شروہ اللہ تعالی کے ارادہ اور اس کی قضاء وقدر کے بغیر حرکت نہیں کرتی ۔ جسم کی ہر حرکت کاروح کو علم ہوتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ کائنات کی ہر حر کت اور ہر چیز کا اللہ کوعلم ہے۔ روح سے زیادہ کوئی چیز جسم کے قریب نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ اللہ کائنات کی ہر چیز کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ روح جسم کے پیدا ہونے سے پہلے موجوتھی اور اس کی فنا کے بعد بھی موجود رہے گی اس سے معلوم ہوا کہ اللہ اس کائنات سے پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا۔

قرآن مجید میں بعض موضوعات ایسے ہیں جو انتہائی مشکل اور پیچیدہ ہیں اور اللہ رب العزت نے ان موضوعات اور اشیاء کوخود اپنی ذات کی جانب منسوب کر کے ان کی پیچیدگی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے
روحانیت

ہمیں روح کی حقیقت معلوم نہیں ہے ۔ اسی طرح اللہ کی حقیقت بھی معلوم نہیں ۔ ہمیں جسم میں روح کا مکان اسکی جہت اور کیفیت معلوم نہیں اسی طرح اللہ کا مکان اس کی جہت اور اس کی کیفیت بھی معلوم نہیں ۔ روح کو آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا نہ اس کی تصویر بنائی جاسکتی ہے، نہ مثال، اسی طرح دنیا میں

الله کوبھی آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے نہ ہی اس کی صورت اور مثال بنائی جاسکتی ہے روح کو مس نہیں کیا جاسکتا اسی طرح الله بھی جسم اور جسمانیت سے پاک ہے“ (3) حضرت علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کی روح سے متعلق ان خوبصورت توجیہات کے بعد اب بھی بات روح سے متعلق نظریہ تثلیث

پر کر لیتے ہیں یہ عیسائیت کا نظر یہ تثلیث نہیں ۔ عیسائیت کا عقید ہ تثلیث ایک باطل عقیدہ ہے اور ہمیں اس باطل عقیدہ سے کوئی سروکار ہیں ۔ اس وقت ہم روح سے متعلق ایک قرآنی نظریہ تثلیث پر بات کررہے ہیں۔

صاحبو!

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں سیدنا عیسی علیہ السلام جبرائیل علیہ السلام اور قرآن کو”روح“ قرار دیا ہے ۔ یہ ایک بہت دلچسپ نظر یہ تثلیث ہے ۔ یقینا حضرت عیسی علیہ السلام حضرت

جبرائیل علیہ السلام اور قرآن کے درمیان کوئی تو قدر مشترک ہوگی جس کی وجہ سے ان تینوں کو روح کہا گیا

اللہ رب العزت نے سورہ النساء میں فرمایا:

انما المسيح عيسى ابن مریم رسول الله وكلمته ع القها الى مریم و روح منه (آیت 71)

عیسی بن مریم اللہ کے رسول ہیں اور وہ اس کا کلمہ ہیں جس کو اللہ نے مریم کی طرف القاءکیا اور اس کی طرف سے روح ہیں)

حضرت عیسی علیہ السلام کو روح الله کیوں کہا گیا اس کی کئی توجیہات مفسرین نے بیان کی ہیں جن میں سے ایک تو یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ روح چونکہ انتہائی لطیف اور نظیف ہے اور سیدنا عیسی علیہ اسلام کو اللہ تعالی نے بغیر نطفہ کے پیدا فرمایا لہذا وہ روح اللہ میں ایک تو جیہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے۔

آپ مردوں کو زندہ کرتے تھے اور مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مارتے تھے تو ان میں جان پڑ جاتی تھی یا روح دوڑنے لگتی تھی لہذا آپ کو ان کی روح کہا گیا۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام کوبھی روح کہا گیا

اللہ تعالی نے فرمایا

يوم يقوم الروح والملائكة صفا ( النا38)

جس دن روح (جبرائیل علیہ السلام ) اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے ) اس طرح سورہ النخل میں اللہ تعالی نے جبرائیل علیہ السلام کو روح القدس قرار دیا ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام جو اللہ تعالی کے مقرب ترین فرشتوں میں سے ہیں انہیں روح القدس اور روح الامین کہنے کی بھی کئی توجیہات بیان کی گئی ہیں ۔ ایک خوبصورت توجیہ یہ ہے کہ کلام عرب میں روح پھونک‘ کو کہتے ہیں ۔ جبرائیل علیہ السلام نے حضرت مریم کے گریبان میں پھونک ماری تھی جس سے عیسی علیہ السلام پیدا ہوئے ابتداآ پ کو روح‘‘ کہا گیا۔ اب آیئے قرآن مجید کی طرف اللہ تعالی نے ارشادفرمایا 

" وكذلك اوحينا اليك روحا من امرنا (سورہ الشوری آیت 52)

اسی طرح ہم نے آپ کی طرف روح ‘‘ (قرآن) کی وحی فرمائی اپنے حکم سے)

اس آیہ مبارکہ میں قرآن کوروح قرار دیا گیا قرآن کوروح قرار دینے اور روح کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح روح بدن کی حیات کا سبب ہے اسی طرح قرآن مجید قلب کی حیات کا سبب ہے۔ دلچسپ امر یہ

ہے کہ روح القدس (جبرائیل علیہ السلام) حضرت مریم سلام الد علیھا کے گریبان میں پھونک مارتے ہیں تو حضرت عیسی علیہ السلام بغیر باپ و نطفہ کے پیدا ہوتے ہیں گویا ایک حیات جنم لیتی ہے پھر سیدنا عیسی علیہ اسلام پھونک مارتے ہیں تو بندوں میں اور پرندوں میں زندگی رقص کرنے لگتی ہے ۔ قرآن بھی ”روح“ ہے ................ زندگی ہے .............. حیات ہے اور ایک پھونک ‘ ہے فرق یہ ہے کہ یہ پھونک مخلوق کی نہیں خالق کی ہے اگر آپ اجازت دیں تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں قرآن کو رحمان کی پھونک کہہ دوں۔۔۔

  
روح اور روحانیت
Allah Is Greatest 

 . قرآن اللہ تعالی کی پھو نک ہے اور یہ وہ پھونک ہے جو نباتات، جمادات یا بیانات جس پر بھی ماری جائے ان میں حیات چلے آتی ہے وہ زندوں جیسے ہو جاتے ہیں بلکہ زندوں کے باعث رشک ہو جاتے ہیں ۔ روح کا تعلق واسطے اور "راین اگر اس سے ہو جائے جس نے

اور چھوٹی اور کہا " ونفخت فيه من روحی (اجر 29 )( اور میں نے اس میں اپنی روح پھونک دی)

تو پھر زندگی ہی زندگی ہے ۔ حیات ہی حیات ہے بلکہ موت بھی حیات ہے کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ کربلا میں کیا ہوا حسین نیز ے پر بلند ہو کر بھی قرآن پڑھتا ہے یقینا یہ وہ قرآن ہے جس کو اللہ

تعالی نے روح کہا ہے اور روح کی تلاوت بر سر نیزہ حسین کی روح ہی کرسکتی ہے خلاصہ یہ کہ جبرائیل علیہ اسلام عیسی علیہ السلام اور قرآن تینوں’’روحوں‘‘ میں جو قدر مشترک ہے وہ حیات بخش ہونا ہے ان تینوں روحوں کواللہ تعالی نے حیات بخش بنایا ہے با الفاظ دیگر روح ہوتی ہی وہ ہے جو حیات بخش ہو۔

صاحبو!

قبل اس کے ہم کچھ بات روحانیت پر کریں یہ بات ذہن میں رہے کہ انسانی جسم میں تین چیزیں انتہائی اہم ہیں دماغ (عقل ) دل ( قلب ) اور روح (امر لی ) رہی یہ بحث کہ ان تینوں میں کس حوالے سے اورکس معاملے میں کس کو کیا اہمیت اور فوقیت حاصل ہے ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایک لاحاصل بحث ہے میرے نزدیک تینوں کے درمیان ایک ہم نئی‘‘ کی ضرورت ہےامام غزالی علیہ الرحمہ روح کے حوالے سے ایک بڑی خوب بات کہتے ہیں کہ روح ایک جسم لطیف ہے جس کا

منع تجوی قلب ہے جو بدن میں پھیلی ہوئی رگ وریشہ کے ذرایعہ جسم کے ہر جز میں سرایت کر جاتا ہے

(4) گویا روح کا تصرف جسم کے رواں رواں پر ہے بیدار روح ، بیدار قتل اور بیدار دل جب باہم ملتے ہیں اور اپنے اپنے نقطہ کمال کو‘ پہنچتے ہیں تو پھر انہیں اپنی منزل آسمانوں میں نہیں بلکہ لا مکانوں میں نظر آتی ہے اور ہر شے زیر تصرف ہو جاتی ہے اس کے برعکس اگر عقل ناقص بول " ظلمت کدہ ہو ۔اور روح پراگنده ہوتو پھر اسکی منزل اسفل سافلین (سب سے نچلہ طبقہ ٹھہرتی ہے۔ (5)

اب آیئے مختصر سی بات روحانیت کے حوالے سے کرتے ہیں ۔ روح اور روحانیت باہم لا زم اور ملزوم ہیں بلکہ روح سے صادر ہونے اعمال و افعال کا دوسرا نام "روحانیت ہے روحانیت و تزکیہ اسی اصلاح ذات ، مجاہد ، مراقبه عبادت ، ریاضت ، ذکر وفکر ، صدق و اخلاص عبر ودر شکر اور نما نلم و ادراک شرایت حقیقت اور طریقت کی جامع ہے۔ لیکن ہمارے ہاں صورتحال اس کے بیکس ہے۔

شعبده بازی جعل سازی کشف و کرامت، پیری مر بھی نذرو نیاز تعویزات جھاڑ پھونک شخصیت پرستی اندھی عقیدت حماقت و جہالت کو روحانیت کا نام دیا جارہا ہے ۔ ان خصلتوں کے حامل لوگ پیرطریقت رہبر شریت نباش حقیقت سرمایه دین و ملت اور پتا نہیں کیا کچھ بنے پھرتے ہیں ۔ تصوف طریقت اور روحانیت کے نام پر جس قد ر دھوکہ دہی اور جعل سازی کا جال پھیلایا گیا ہے اس کی مثال شاید ہی کسی دوسرے شعبہ زندگی میں آپکومل سکے ۔ روحانیت کے نام پر ہوسں حسد، بغض تعصب اور کئی دیگر افعال قبیحہ کو فردغ دیا جارہا ہے عطریات کے نام پر خلاف شر یعت رسومات کو بڑی بے باکی سے ا نجام دیا جارہا ہے۔ تصوف کا لبادہ اوڑھ کر حقیقی صوفیائے کرام کو بدنام کیا جارہا ہے بزرگان دین کے نام پر مال وزرتو سمیٹا جارہا ہے لیکن معاملات وعمولات میں ان کی سیرت سے دور کا بھی واسطے ہیں ۔ ہر کوئی خلیفہ مجاز اور زبدۃ السالکین بنا بیٹھا ہے پیری مریدی بھی اس عروج پہنچ چکی ہے کہ فرضیت کا درجہ اختیار کر چکی ہے فرائض و واجبات کی ادائیگی سے ان روحانی کالی بھیٹروں‘‘ کو کوئی سروکار نہیں یہاں بس مرشد کی خدمت و عقیدت میں کوئی کی گوارا نہیں اور اور ادوخان بنا کر اور تعویذات ونڈ سے تھما کر

سادہ لوح لوگوں کو بے عملی کی جانب دھکیلا جارہا ہے ان کے اعضاء واعصاب کو مستقل بنیادوں پرفالج زدہ (Paralyse ) کیا جارہا ہے۔ کوشش سعی جدوجہد اور تبدیلی لانے والے داعیہ وہ روحانی انجکشن لگایا جارہا ہے جس سے وہ سکون کی ہی نہیں بلکہ موت کی نیند سوجائے ۔ کشف و کرامت کا ایک بازار گرم ہے لوگوں کو دونوں ہاتھ ہی نہیں بلکہ ہاتھوں ہاتھ لوٹا جارہا ہے۔ جوں جوں زمانہ ترقی کر رہا ہے اور جدت پسندی کا رجحان فروغ پارہا ہے روحانیت کے نام پر جعل سازی اور شعبدہ بازی میں بھی ترقی اور جدت پسندی کا عنصر نمایاں نظر آ رہا ہے۔

صاحبو!

روحانیت اتنا ہی حساس موضوع ہے جتنا کہ روح‘‘ ہے علما حقیقت کے نزد یک روح الله تعالی کے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کی حقیقت کو جھنے سے بیشتر عتلمیں تقاصر ہیں (6) لیکن آج

حیرت ناک اور تشویش ناک صورتحال یہ ہے کہ کئی لوگ جو روح اور روحانیت سے تابند اور نا آشنا ہیں روحانی اصلاحات اور معاملات سے بے بہرہ ہیں و و روحانیت پڑھاتے ہیں روحانیت سکھات •

میں روحانیت سمجھاتے ہیں روحانیت بتاتے ہیں .......... بلکہ روحانیت " بناتے ہیں

روحانیت کے ساتھ مذاق ............ روح کے ساتھ مذاق . اگر روحانیت کا تعلق روح سے ہے یا روح سے روحانیت ہے۔ تو پھر یہ امر ربی ہے من جانب الله ،، ہے امر کے معانی اتنے محدود ہیں جتنے ہم الفت میں پڑھتے ہیں امر کے اندر سارے جہاں اور ساری دنیائیں سنا سکتی ہیں ۔پھر امر ربی،، کی وسعت کا انداز ہ کون کرے؟ جو شے اللہ کی جانب سے ہو اور اللہ کی جناب سے ہو اسے ہم کیا سمجھیں اسے ہم کیا جانیں بس کہہ دیجئیے ہر رو اللہ ہر روح اللہ"




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے