Subscribe Us

Reality Vs Dream

  

              "حقیقت"



https://www.emminovel.com/2022/06/haqiqatkhawb.html
خواب/حقیقت

وہ زمانے گزر گئے جب تاریک گلیوں، بل کھاتی غلام گردشوں اور ویران بالکونیوں میں سے روحیں جھانکا کرتی تھیں اور آنے جانے والے کو ڈرایا کرتی تھیں، جب لوگ کہتے تھے اس راہ سے مت گزرنا ورنہ تم پر اثر ہوجایے گا اور تم مسکرا نہیں سکو گے ، کوئی خوشیوں کو ترسی ہوئی روح تمہاری ہنسی سن لے گی تو سخت برا مان کر تم سے بھی خوشیاں لے لے گی۔


اب تو ہر طرف رونقیں ہیں۔ اب وہ تاریک اور خوفناک جگہیں قصہ پارینہ ہوئیں ، اب خوفناک چہروں والی ہوائی چیزیں نایاب ہوگئ ہیں۔

اب تو ہر طرف مسکراتے چہرے ملتے ہیں۔ برینڈڈ آئی لائنر ، مسکارا اور خوش رنگ لپ سٹک لگائے مسکراتے چہروں کو دیکھ کر کون جانے کہ ان کے اندر کون سے عذاب چل رہے ہیں۔ اب یہ نئے کپڑوں پر پرفیوم لگا کر چائے خانوں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں اپنے جیسے اور چہروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں ، قہقہے لگاتے ہیں۔

اب ان اداس چہروں نے اپنے منہ پر مسکراہٹ کا غازہ مل لیا ہے اسلیے کوئی ان کا اصل چہرہ نہیں پہچان پاتا۔


یہ اکیسویں صدی کے بظاہر نارمل مگر پیرانارمل لوگ خود کو اور دوسروں کو دھوکہ دینے کے ماہر ہیں۔ اب کوئی دریا کے کنارے مرنے نہیں جاتا، کوئی لوگوں کے ہجوم میں دیوانہ وار رقص کر کے اپنا مذاق نہیں بنواتا۔ اب یہ سارے کام سادی دنیا سے چھپ کر ہوتے ہیں۔ 

آپ ان مسکراتے چہروں کو دیکھ کر گماں نہیں کر پاتے کہ آنے والے کل یہ مردہ حالت میں ملیں گے۔


غلام گردشوں اور تاریک راہوں میں بھٹکتی ان کے اجداد کی روحیں ان کو حیرت سے دیکھتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ آنے والا وقت کیسا ہوگا۔۔۔!

✍️


                                 "خواب"

میں تمہارے گھر آئی، میری آنکھوں کے سامنے ہے ابھی تک وہ جگہ، حالانکہ وہ ایک خواب تھا مگر خواب بھی اس قدر استطاعت رکھتے ہیں میں جانتی نہ تھی۔۔ وہ بندرگاہ کے کنارے چھوٹا سا کاٹیج تھا، سرخ اینٹوں والا۔ایک خوبصورت کان اور اس میں ہر رنگ کے پھول اور پانی کا نل۔ میں اس نل کے نیچے پاؤں دھوتی ہوں یوں لگتا ہے کہ تھکن اتر گئ ہو، تم جانتے ہو میں اس دن اس قدر خوش کیوں تھی کیونکہ مجھے پتہ چلا تھا کہ زمینی اور فضائی راستے غیر معینہ مدت کے لیے بند ہوگئے ہیں۔تمہاری موجودگی میری سانسوں کو آسان بنا رہی تھی ۔ میں نے پھولوں سے ایک گلدستہ بنایا اور ننگے پیروں تمہارے گھر کے اندرونی دروازے تک آئی۔ کسی کا بھی محبوب جدا نہ ہو اس سے بڑھ کر کیا خوبصورت ہو سکتا ہے، کسی کو الوداعی گیت نہ گانے پڑیں موسیقی کا اس سے زیادہ خوبصورت استعمال کیا ہوسکتا ہے بھلا۔ میں تمہاری موجودگی کا سوچ کر دروازہ کھٹکھٹانے لگی کہ وہ خود ہی کھل گیا ۔ پتہ نہیں کیوں اچانک ہی وہ پھول مرجھانے لگے اور مجھے لگا کہ سماعت کا کوئی مسئلہ ہوگیا ہے، پھر اچانک ہی مجھے ایک آواز سنائی دی کہ تم آبی راستے سے واپس چلے گئے ہو۔ میں تمہیں بتا نہیں سکتی کہ تم کس قدر ظالم لگے مجھے ، میں کبھی اتنا اداس نہیں ہوئی تھی جتنا اس وقت تمہارے جانے کی خبر نے مجھے کیا۔ پتہ نہیں پانیوں کو آگ کیوں نہیں لگی، وہ سارے بحری جہاز اس دن کسی برمودا میں کیوں نہیں پھنس گئے، تمہارا گھر بندرگاہ سے دور بھی تو ہو سکتا تھا۔ جہازوں کے ایندھن کی سیٹیوں کی آواز سن کر مجھے معلوم ہوا کہ صور پھونکنے پر سب بہرے کیوں ہوجائیں گے ، سب زندہ ہوں گے مگر مرجائیں گے ۔ 

میں بھی تب ایسے ہی مر گئ تھی، مجھے اس پانی میں کود جانا چاہیے تھا مگر اتنی تکلیف تھی کہ جب میری آنکھ کھلی تو میری مٹھی بند تھی اور آنکھیں نم۔

خوشی کا تعلق چار مرغابیوں سے نہیں ہوتا مگر غم کا تعلق ایک انسان کے دور چلے جانے سے ہوتا ہے یوں لگتا ہے کسی اندھے کنوئیں میں پھینک دیا گیا ہو اور آنکھیں بھی نکال دی گئی ہوں تاکہ راہ نجات نہ رہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے