"پسند کے موسم سے پہلے انتقال"
![]() |
| خوبصورت موت |
شاید جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے تب میں اِک خوبصورت موت مر چکی ہوں گی، میں جانتی ہوں آپ چونکے ہیں اور دل میں تھوڑی سی کھلبلی مچی ہے،
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ تحریر آپ کے ذہن میں اٹک جائے، میرے خیال میں میرا جنازہ کسی چوراہے میں پڑا ہو گا یا پھر کچھ تاریک گلیوں میں کچھ بے زار لوگوں کے کاندھوں پر سوار ہو گا،
مجھے بچپن سے ہی ایک خوبصورت موت کی تمنا تھی، جبکہ میں جانتی ہی نہیں تھی کہ مرنا کسے کہتے ہیں، مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ایک دوست ہوا کرتی تھی جس کے ساتھ مل کر کھیلتے تھے اس کے بالوں کی ہمیشہ دو چوٹیاں بنی ہوتیں تھیں جس کو کھینچ کر ہم بچے اس کو ستاتے تھے، اس لڑکی کا نام ماریہ تھا، ہمارے گاؤں میں جب ہیضہ پھوٹ پڑا تو وہ بھی اس کی لپیٹ میں آ گئی اور جب ہم اسے کھیلنے کے لئے بلانے گئے تو وہ نڈھال چارپائی پر پڑھی تھی اور کچھ دیر بعد اس کی ماں کی دلخراش چیخ میں اس کی روح کہیں گم ہو گئی تو ٹھیک اُسی لمحے میں نے دیکھا کہ اس کی دو چوٹیاں ویسے ہی لہلہا رہی ہیں،
میں نے زندگی کو اُس پل موت کا ہونا محسوس کیا تھا،ماریہ کے مرنے کے بعد اس پر لوگ روتے رہے اور مجھے وہ منظر بہت جاندار لگا، حقیقت کے قریب تر اور شاید اسی دن میرے دل میں مرنے کی خواہش پیدا ہوئی تھی،
سچ کہوں تو میں مری نہیں ہوں میں شاعروں کے کلام میں زندہ رہوں گی، میں محبت کی بزرگی اور دلوں کے غموں میں زندہ رہوں گی،
حقیقت یہ ہے کہ میں مری نہیں بلکہ روح کا جسم سے نکل جانا تو آزادی ہے، موت تو زندگی میں پوشیدہ ہے، زندگی ہمیں اقساط میں مارتی ہے کہ لمحہ بہ لمحہ دھیرے دھیرے،
میرے بعد شہنائیاں اور بانسریاں بجانا اور مسرت بھرے نغمے کہنا کہ میں سکون کی طرف لوٹ گٸ جہاں سے میری ابتداء ہوئی تھی کہ ہر شخص کو لوٹ جانا ہے،
مجھے یقین ہے کہ میری موت پر کچھ اداس تبصرے ہوں گے کہ کچھ آنکھوں میں بے معنی سے آنسو بھی چلے آئیں گے کہ موت کسی کی بھی ہو انسان کو سوگوار کر دیتی ہے، کچھ دنوں میں فراموشی کی آندھی میری یادوں کو اڑا دے گی پر نہیں میں اداس لوگوں کی آنکھوں میں زندہ رہوں گی اور دسمبر کی طویل انتظار بھری شاموں میں میری مہک ہو گی، جیسے برستی بارش میں مٹی کی خوشبو ہر سو پھیلی ہوتی ہے، میں اس بچے کی مانند تھی جو آسمان میں قوس قزاح کو دیکھے اور اسے پکڑنے کی کوشش کرے اور پھر رونے لگے،
اب میری روح موت کے گھونسلے میں سو رہی ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ مجھے گرمیوں میں مرنا پسند نہیں تھا
وہ اس لئے کہ میں جگنوں اور تتلیوں کے موسم میں بجھنے کی خواہش سے خوف کھاتی تھی۔ مجھے تو سرد شاموں میں سے کوئی خاموش سی شام پسند تھی، جس میں میرے جنازے میں خشک پتے جو چھتریوں میں اٹکے ہوں اور آسمان کہی دن تک میرے غم میں روتا اور گلیاں آنسوؤں سے بھری ہوئی نہروں میں بدل چکی ہوتیں پر پتا نہیں کیوں میں اپنے پسند کے موسم کا انتظار کرنے سے محروم رہی۔۔
زیر قلم۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔
٢١/٠٦/٢٠٢٢
3:13 pm
Writer:Saba Rana


0 تبصرے