Subscribe Us

Mariam Malik

 

          "باتیں مریم ملک سے"



باتیں مریم ملک سے
انسانیت یا اداکاری

!السلام علیکم۔

وعلیکم السلام۔

 سب سے پہلے بتاؤ کیا حال ہے?۔

 الحمدللہ بلکل ٹھیک ہوں۔

کیا چل رہا ہے آجکل?۔

 آجکل پڑھ رہی ہوں بی کام پارٹ ون میں اس کے علاوہ بچوں اور ڈائجسٹ کے لیے کہانیاں
ماشاءاللہ۔کس ڈائجسٹ میں لکھتی ہو? اور لکھنے کا آغاز کب کیا
ردا، حناء، پاکیزہ اور اردو ڈائجسٹ میں ان شاءاللہ بہت جلد کرن اور سرگزشت ڈائجسٹ میں بھی لکھنے کا آغاز کروں گی۔ لکھنے کا آغاز 2020 سے کیا تھا لیکن باقدہ لکھ نہ سکی ان شاءاللہ اس سال سے باقدہ لکھنے کا آغاز کیا ہے ایک بار پھر سے

 لکھنے کا شوق کب ہوا? اور کیسے ہوا?۔

میرے والد اور میری بہن ثوبیہ ملک ہمارے گھر میں دو رائٹرز پہلے سے ہی موجود ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ والد سے اور بہن سے ہی یہ شوق پروان چڑھا۔ مجھے لکھنے کا شوق ساتویں کلاس سے ہوا تھا۔ میں اکثر کاپیز یا صفحات پر بچوں کی کہانیاں لکھتی رہتی تھی لیکن کبھی شائع نہیں کروائی۔ 2020 میں جولائی میں چند ارٹیکلز اور کالم لکھیں انہیں مختلف اخبارات میں شائع کروایا۔ اسکے بعد ردا ڈائجسٹ سے لکھنے کی طرف پہلا قدم اٹھایا اب دیگر ڈائجسٹ میں بھی اپنے افسانے اور ناولز وغیرہ شائع کروانا چاہتی ہوں۔

اب تک کتنی تحاریر لکھ چکی ہو آپ?۔

 یہ بتانا تو مشکل ہو گا کہ کتنی تحریریں لکھی ہے لیکن اندازا تیس کے لگ بھگ لکھ چکی ہوں


باتیں مریم ملک سے
نظم



کوئی ایسی تحریر جو بذات خود آپکو بہت پسند ہو یا جسکو لکھتے دل کی کیفیت ساتھ ساتھ بدلتی رہی یا جسے بہت دل سے لکھا ہو?۔

میرا ایک آرٹیکل جو 2020 میں شائع ہوا تھا ” انسانیت یا اداکاری“ اسکے علاوہ 2022 حناء ڈائجسٹ میں میرا افسانہ ” حاصل محبت“ میرے پسندیدہ ہے چونکہ مجھے لکھتے ہوۓ زیادہ عرصہ نہیں ہوا اس لیے میرے لیے طے کرنا مشکل ہے کہ کون سی تحریر مجھے زیادہ پسند ہے۔ ”انسانیت یا اداکاری“ آرٹیکل لکھتے وقت میری کیفیت بدلتی رہی تھی کیوں کہ وہ آرٹیکل معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اور ” حاصل محبت“ بہت دل سے لکھا گیا افسانہ ہے

اچھا مطلب آپ اپنے ارد گرد معاشرے میں بکھری اچھائیوں
 برائیوں سے اپنی تحریر لیتی ہو?۔

جی کافی حد تک ایسا ہی ہے۔ لکھاری اپنے ارد گرد ہونے والےمسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے میرا ماننا ہے کہ لکھاری بہت حساس ہوتے ہیں اسی لیے معاشرے میں موجود اچھائیوں اور برائیوں کو قلم بند کرتا ہے

 کونسی ایسی برائی ہے معاشرے کی جس پہ دل بہت دکھ ہوتا ہے کہ آپ سوچتی ہو کاش میرے بس میں ہوتا تو یہ ٹھیک کردیتی?۔

لوگوں کا دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کرنا۔ ہم اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے لیکن دوسروں پر طنز و تیر برساتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے مرنا بھی ہے لیکن اپنی قبر کی تیاری کرنے کے بجاۓ دوسروں کی غلطیوں کی نشان دہی کرواتے ہیں اور انہیں قبر کا خوف دلاتے ہیں۔ پاک تو کوئی بھی نہیں انبیاء اکرام کے سواء مگر صد افسوس کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں یہ برائی اس قدر پھیل چکی ہے کہ اسے جڑ سے نکالنا مشکل ہے لیکن میرے بس میں ہو تو اس برائی کو ختم کر دوں ہمیشہ کے لیے۔

سیاست سے دلچسبی ہے کوئی?۔

 سیاست میں دلچسپی ہے بھی اور نہیں بھی۔ سیاست ایک ایسی بحث ہے کہ آپ مخالف لیڈر پر تنقید ، بحث و مباحثہ اور لڑتے جھگڑتے نظر آتے ہے۔ جب کہ ہماری عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم جس لیڈر کو سپورٹ کر رہے ہیں انہیں آپکی ذات سے دلچسپی نہیں ہوتی آپ ان کے لیے لڑے ، جھگڑے یا خون بہا دیں وہ چند الفاظ آپ کے لیے کہنا تک پسند نہیں کرتے انہیں بس اپنی حکومت پر دھاک جمانی ہوتی ہے ہر حال میں۔ اس لیے میں ان سب میں دلچسپی نہیں رکھتی بس پاکستان سے محبت ہے

 .?آپکو کونسا لیڈر پسند ہے

 مجھے کوئی خاص نہیں پسند سبھی ٹھیک ہے۔ جو پاکستان کے لیے اچھا سوچیں میرے لیے وہی پسندیدہ لیڈر ہو گا۔

اپنے بارے میں کچھ بتائیں آپ?۔

 میں روشنیوں کے شہر کراچی میں پیدا ہوئی ہوں یہی پر پلی بڑھی ہوں۔ تعلیم کراچی کے ایک نجی سکول اور پھر کالج سے حاصل کی۔اس وقت یونیورسٹی میں بی کام پارٹ ون کی طالبعلم ہوں۔ ہم چھ بہن، بھائی ہے۔ میں گھر میں تمام بہنوں، بھائیوں میں چھوٹی ہوں یعنی لاسٹ نمبر ہے میرا۔ تینوں بہنوں اور ایک بھائی کی شادی ہو چکی یے جن میں سے ثوبیہ ملک کو آپ سب تقریبا جانتے ہیں۔ اب میں اور میرا بھائی موجود ہے جو پڑھ رہے ہیں۔
 ان شاءاللہ آگے بہت کچھ کرنے کا راداہ ہے

گھر والے آپکی تحاریر پڑھتے ہیں? سراہتے ہیں یا وہی مثال ہے آپکے ساتھ کہ گھر کی مرغی دال برابر?۔

 ہاہاہا۔۔۔۔ میری تحریر ثوبیہ ملک پڑھتی ہے بہت حد تک سراہتی بھی ہے اور بڑی سس کے موڈ پر ہوتا ہے کبھی پڑھتی ہے اور کبھی نہیں بھی۔ لیکن انکا ہمیشہ ہی یہی کہنا ہوتا ہے کہ لکھا کرو جب وقت ملے۔ لکھنا سے کنارہ کشی ہرگز نہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ دوسرے نمبر والے بھائی بھی بعض اوقات پڑھ لیتے ہیں میری کہانیاں اور پڑھنے کے بعد انکی راۓ بہت اہم ہوتی ہے کیوں کہ وہ کھل کر تعریف اور تنقید دونوں کرتے ہیں۔پھر بھی یہ محاورا کہا جا سکتا ہے کہ گھر کی مرغی دال برابر۔۔۔۔۔۔۔

باتیں مریم ملک سے
ایک پیغام



یہ بتائیں کونسا ایسا ٹاپک ہے جس پہ آپ لکھنا چاہو گی? یا دل ہے کہ ضرور لکھنا ہے اس پہ?۔
 مخصوص ٹاپک پر نہیں لکھنا چاہتی بلکہ ہر ٹاپ پر لکھنے کی خواہش ہے۔ ہاں ایک، دو ٹاپک پر ضرور لکھنا چاہوں گی جن میں غربت، خود کشی اس طرح کے ٹاپک پر لکھنا چاہوں گی.

محبت آجکل بڑا ہاٹ ٹاپک بنا ہوا ہے اسپیشلی سوشل میڈیا پہ آپکی کیا رائے ہے محبت کے بارے میں? یا سوشل میڈیا کی محبت کے بارے میں کیا کہو گی آپ?۔

محبت کے بارے میں بات کرنا مشکل ترین ٹاپک ہے۔ سچ ہے یہ بات کہ محبت آجکل بہت عام ہو چکی ہے۔ ہر دوسرا بندہ مجنوں بنا پھرتا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب محبت صرف نام کی رہ گئی ہے آپ چند دن کسی سے اپنے احساسات، اپنی باتیں، اپنی زندگی کے لمحات شئیر کرتے ہیں اسکے کوئی بعد نیا فرد انٹری مارتا ہے اور سب ختم۔۔۔۔۔ پھر ہوتا یوں کہ لڑکا یا لڑکی میں ایک اس جذبہ میں کھرا ہوتا اور دوسرا کھوٹا تو ایسی محبت صرف وقت گزاری کا نام ہے۔ جہاں تک بات سوشل میڈیا کی محبت کی تو یہ محبت سمجھ سے باہر ہے آپ اہک شخص کو جانتے تک نہیں چند میسج پھر کال پر بات کرنے کے بعد اسے محبت کس نام دے دیتے ہیں۔ اس ریلشن شیپ کو محبت تو نہیں کہہ سکتے نا خیر بہر حال ہمارے معاشرے میں محبت نہیں پائی جاتی آ ج کل کے دور میں مگر وقت گزارنے کے لیے اس پر محبت کا لیبل لگا سکتے ہیں

 کیا آپ لکھنے کو پروفیشن سمجھتی ہیں یا بس شوق کی حد تک ہے? یا آپ کتنا کما لیتی ہی. اس سے? یا آگے چل کر بطور پروفیشن اپنائیں گی اسے?۔

 لکھنا پروفیشن بھی ہو سکتا ہے اگر باقدگی سے لکھا جاۓ تو۔۔ میں نے لکھنا شروع کیا تھا تو شوق کی حد تک تھا لیکن اب اسے پروفیشن بناؤں گی ان شاءاللہ ۔ جیسے پہلے بتایا آپکو کہ اسی سال لکھنا شروع کیا ہے تو اب تک پاکیزہ ڈائجسٹ سے پہلا اعزازیہ موصول ہوا جو چار سو روپے تھا۔ آگے چل کر ضرور پروفیشن اپناؤں گی کیوں کہ میرا خیال ہے کہ لکھاری کا قلم کچھ وقت کے لیے شاید لکھنے سے انکاری ہو لیکن جب اس پر کیفیات حاوی ہوتی ہے تو وہ اسے اپنے لفظوں میں ضرور ڈھال لیتا ہے

آپکے خیال میں پاکستان میں اک لکھاری یا یا اس فیلڈ کا کیا مستقبل ہے? آنے والے وقت میں آپ کے خیال میں لکھاری کا کیا.مسقبل ہوگا?۔
 
 لکھاری کا مستقبل شاید ہی زیادہ اچھا ہو۔ کیونکہ انٹرنیشل سطح پر اگر کام کیے جاۓ تو مستقبل روشن اور اچھا ہو سکتا ہے مگر چھوٹی سطح پر مے بی اچھا ہو لیکن لکھاری کو اتنی عزت اور وہ رتبہ نہیں دیا جاتا جو اسکا حق ہے۔ مثل کے طور پر کوئی ڈرامہ سیریل ٹی وی پر آن ائیر ہوتا ہے تو ہم جس رائٹر نے لکھا ہے اسے سراہنے سے زیادہ ایکٹرز کو داد دیتے ہیں یعنی اسکرپٹ لکھنے والی یا والے کا ہمیں نام تک نہیں پتہ ہوتا۔ جو پہلے دور کے ادیب تھے ان کا نام آج بھی زندہ ہے اور انہیں سنہری الفاظ میں یاد کیا جاتا مگر آج کے دور بہت سو کو تو نام ہی نہیں معلوم رائٹرز کے۔

?کوئی ایسا لکھاری جس سے بہت متاثر ہو آپ

 بہت سے نام ہے جنہیں پڑھا اور متاثر بھی یوئی۔ جن میں نمرہ احمد، عمیرہ احمد، شہباز اکبر الفت ، عفت سحر طاہر صاحبہ، سعدیہ راجپوت، اقراء صغیر احمد اور نازیہ کنول نازی ۔۔۔ ڈائجسٹ میں لکھنے سے پہلے ان کو پڑھا ہے ان سے متاثر ہوئی ہوں اور اگر بچوں کی بات کی جاۓ تو اب تک کے فیورٹ میں علی حیدر ہے جن کی تحریر پڑھ کر بچوں کے لیے لکھنے کا خیال آیا

.?کوئی ایسا ناول تحاریر جو پسند ہو جو بار بار پڑھی ہو

سعدیہ راچپوت کا ناول ” عشق آتش“ موسٹ فیورٹ ناول عشق مجازی سے لیکر عشق حقیقی تک کا سفر ہے اس ناول میں اور ” محبت دل پہ دستک “

.?کوئی اک شعر جو بہت پسند ہو

 
شاعری سے اب کم لگاؤ ہے میڑک تک شاعری بے حد پسند تھی اب قدرے کم ہے 
ایک شعر پسند ہے ان دنوں 

تجھ کو اے شخص ، کبھی زیست کی تنہائی میں
یاد آئیں گے ہم عُجلت میں گنوائے ہوئے لوگ

.?آپ خود بھی شاعرہ ہیں ہمیں اپنا ذاتی شعر سنادیں کوئی

تجھ سے بچھڑ کر تیری طلب اور بڑھ گئی
تجھے کھو کر ہاۓ کتنے خسارے جھیلے

 کوئی پیغام کوئی بات جو آپ سب سے اپنے قارئین اپنے چاہنے والوں سے کہنا چاہیں?۔

 میں بس یہی کہوں گی کہ خوش رہیں اور دوسروں کو خوش رکھیں، کسی کے معاملات میں آپ نہ بولیں اور زندگی کا جو مقصد اسے پورا کریں اگر کوئی تنقید کرتا ہے تو جواب دینے کے بجاۓ محنت سے اپنا کریں خود ہی لوگ خاموش ہو جائیں گے۔

اسکے ساتھ ہی ہم مریم ملک سے اجازت چاہتے ہیں اس دعا کے ساتھ کہ
  اللہ آپکو مزید کامیابیاں دے اور آپ ترقی کی منزلوں کو چھوؤ۔ہمیشہ خوش رہو اللہ حافظ

باتیں مریم ملک سے
نظم


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے