Subscribe Us

Mansoor Bechara

        "منصور بیچارا مارا جائے"

mansoor bechara
Mansoor Khilaaj




اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں حضرت موسی علیہ السلام کا ذکر متعدد بار کیا ہے کم و بیش چالیس مقامات پر موسی علیہ السلام کا نام نامی اسم گرامی قرآن کریم میں موجود ہے اور غالبا موسی علیہ 

السلام کی یہ انفرادیت بھی ہے کہ انبیاء کرام میں عددی اعتبار سے سب سے زیادہ ان کے نام کے ساتھ ان کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے ۔ حضرت موسی علیہ السلام کو کلیم اللہ ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فر مایا: ولما جاء موسى لميقاتنا و کلمه ربه (اور جب موسی ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا)۔ (سورةالاعراف143)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے موسی علیہ السلام سے کس طرح کلام کیا کہ کیا وہ کلام آ واز و حروف کا مرکب تھا یا آواز و حروف کے بغیر صفت ازلی کی صورت تھا؟ کیا وہ کلام لفظی تھا یا

کلام نفسی تھا؟ اس موضوع پپ مفسرین و محققین نے بہت طویل بحثیں کی ہیں اور مختلف مذاہب نے اپنی اپنی آرا و نظریات پیش کئے ہیں ۔ کلام لفظی وہ ہے جو اعادتا سنائی دیتا ہے جیسا کہ معروف کلام اور کلام نفسی و ہ ہے جوکلمات اور حروف پر مشتمل ہوتا ہے لیکن عادتا سنائی نہیں دیتا۔لفظی کلام حروف و آواز کا مرکب ہوتا ہےنتیجتا " حادث ہے اور کلام نفسی قد یم او رصفت ہے لہذا از لی ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے جوکلام سناوہ موسی علیہ السلام کا معجزہ ہے کیونکہ بغیر آواز کے کلام کو سننا خلاف معمول اور خرق عادت ہے۔ (1)

اس وقت ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ موسی علیہ السلام پہلے ےیس راتوں اور پھر مزید چالیس راتوں کی چلہ کشی کے بعد کس طرح اللہ رب العزت سے ہم کلام ہوئے ۔ کوہ طور پر ان کے ساتھ کیامعاملہ پیش آیا ؟ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ الله رب العزت نے موسی علیہ اسلام سے کلام کیا اوراس کلام کی تفصیلات بھی تفاسیر میں موجود ہیں ۔ میں دراصل آپ کو سورة طہ ، سور ة النمل اور سورة القصص کی ان آیات کی طرف لے کر جانا چاہتا ہوں جہاں اللہ رب العزت نے موسی علیہ السلام کو اپنی طرف متوجہ کیا اور آگ کے شعلوں میں جلتے ہوئے درخت ست ندادی موسی انی انا ربك ."

اے موسی بے شک میں ہی آپ کا رب ہوں ۔“ (طہ12-11 )

ایموسی انه انا الله " 

اےموسی سنو بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں ۔ النمل 9) 

في البقعة المبركة من الشجرة

ان يموسی انی انا الله رب العلمین 

برکت والی زمین کے ٹکرے سے ایک درخت سے ندا کی گئی کہ اے موسی ! بے شک میں ہی اللہ رب ا لعلمین ہوں ( سورة القصص 30 ) اگر آپ سورة طہ سور النمل اور سور ۃ القصص کی ان آیات کا مطالعہ کر یں جن میں اللہ رب العزت نے ایک جلتے ہوئے درخت سے موسی علیہ السلام کو ندادی تو ان تینوں مقامات پر الفاظ مشترک ہیں ۔ انی

انست نارا ( بے شک میں نے ایک آگ دیکھی) - ( 10 ) (النمل 7 ) (القصص 29)

دراصل یہ وہ آگ نہیں تھی نہ ہی انگارے تھے جسے موسی علیہ السلام حاصل کر کے اپنی زوجہ محترمہ اور بچے کیلئے حرارت کا ساماں کرتے۔ بلکہ یہ وہ آگ تھی جس میں حدت بھی تھی اور حرارت بھی گرمی بھی تھی اور شدت بھی لیکن یہ آگ جلانے کیلئے نہیں بلکہ جل جانے کے لئے تھی ۔ فطرتا اسکا حصول ممکن نہ تھالیکن فطرت کے ساتھ اس کا تعلق ضرور تھا۔ یہ آگ تھی یااللہ کا نور جلال یا تجلی

ان الله عليم خبير

امام احمد بن حنبل علیہ الرحم اس آگ کا احوال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "آگ کے بھڑ کنےسے درخت جلنےکی بجانے اور زیاد سرسبز ہورہا تھااور اس کا حسن اور زیاد نکھر رہا تھا

۔ اس درخت سے عمودی شکل میں آسمان کی طرف ایک نور بلند ہوا جو سورج کی شعاع کا مثل تھا اور اس پر نظر نہیں ٹھہرتی تھی

(2) موسی علیہ السلام حیران کھڑے تھے اور سو چ رہے تھے کہ میں کھڑا رہوں یا چلا جاؤں۔دفعتا درخت سے آواز آئی اے موسی بے شک میں ہی تمہارا رب ہوں۔ اب آئیےدوسرے نقطے کی جانب تینوں مقامات پر الفاظ کے تھوڑے سے رد و بدل کے ساتھ موسی علیہ اسلام کو الله تعالی نے بڑےپیار سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حیران پریشان اور خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔ موسی 

" میں ہی تمہارا رب ہوں‘ - " میں ہی اللہ ہوں میں ہی رب العالمین ہوں ۔ معافی اور مفاھیم کے درج بالا اشتراک کی وجہ یقیننا یہ ہے کہ یہ آیات ایک ہی واقعہ سے متعلق ہیں ۔ جب اللہ رب العزت نے موسی

علیہ السلام سے کلام کیا تو انہوں نے اپنے دا ئیں بائیں آگے پیچھے اوپر نیچے بلکہ ہرجانب سے اس کلام کو سماعت کیا۔ موسی علیہ السلام کا ہر عضو یہ کلام سن رہا تھا ان کا پورا جسم مجسم سماعت ہو گیا تھا۔

ایک طرف صورتحال یہ ہے کہ درخت پر بجلی پڑتی ہے تو وہ نور و جلال کا مظہر بن جاتا ہے اور الله تعالی کی صفت کا مظہر بن کر اللہ کے کلام کامحل بن جاتا ہے ۔ دوسری جانب موسی علیہ السلام کا وجود و جود نہیں ر ہتا مجسم سماعت ہو جا تا ہے ۔ اب ایک انتہائی اہم نکتہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتاہوں ۔ سور طہ اور سورہ النمل میں اشارۃ اس بات کا ذکر ہے کہ درخت سے یہ نداآئی اے موسی 

" میں ہی تمہارا رب ہوں ، میں ہی اللہ ہوں، لیکن سورہ القصص میں تو بالکل واضح لفظوں میں ارشاد باری تعالی ہے" من الشجرة ان يموسی انی انا الله رب العالمین O

(ایک درخت سے ندا آئی اے موسی میں ہی اللہ رب العالمین ہوں)۔ بات بالکل واضح ہے کہ تجلی و نور کے شعلوں میں لپٹا ہوا درخت کہہ رہا ہے میں ہی اللہ رب العالمین ہوں غور کیجئیے درخت خالق کائنات

کے ذاتی نام " اللہ اور صفاتی نام" رب سے خطاب کر رہا ہے ۔ اس خطاب میں جلال بھی ہے اور "جمال بھی "صفت بھی ہے اور ذات بھی دونوں جہتیں ساتھ ساتھ ہمیں یقینا یہ آوازدرخت کی نہیں درخت تو ایک نباتاتی مخلوق ہے ۔ یہ آواز خالق کی ہے لیکن اللہ کے کلام کا محل ایک درخت بن گیا ہے اور بظاہر درخت کہہ رہا ہے کہ میں ہی اللہ ہوں میں ہی رب ہوں‘ اس گفتگوکو ذہن نشین کر لینے کے بعد- مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی پڑھئیے۔ یہ حدیث نہیں حدیث قدسی سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

: الله تعالی کا ارشادہے ۔

 جو شخص میرے کسی ولی (دوست) سے عداوت رکھے میرا اس سے اعلان جنگ ہے۔ میرا بندہ میرے فرض کرده امور کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ میرے سے زیادہ قریب نہیں آ سکتا۔ میرا بندہ نوافل

نفلی عبادات ) کے ذریعہ میرے قریب ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں

اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا

کا پاؤں بن جا تا ہوں جس سے وہ چلتا ہے وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں ۔ مجھے سے پناہ طلب کرے تو میں اسے انی پناہ ضرور دیتا ہوں ۔(3)

امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ الله تعالی کا نور جلال اللہ کے بند ے کا کان آنکھ ہاتھ پاؤں بن جاتا ہے پھر وہ دور ونزدیکی سنتا ہے دور و نزدیکی دیکھتا ہے اور دور و نزدیکی پر تصرف حاصل ہوجاتا ہے۔ گویا بنده اللہ کا قرب حاصل کر کے مولاصفات بن جاتا ہے۔

اس سے قبل کہ ہم اپنی گفتگو کو سمیٹیں اور عنوان کی جانب بڑھیں یہ بات ذہن میں رہے کہ صوفياء کرام میں دوطرح کے نظریات ہر عہد میں موجود ہے۔ ایک وحدت الوجود اور دوسرا وحدت الشهود‘ اور غالبا یہ سلسلہ صحابہ کرام کے عہد سے چلا آرہا ہے۔ شاید صحابہ کرام کے عہد میں ان تجربات کا پرچار زیادہ نہیں تھا لیکن کئی صحابہ کرام کے رویوں اور طرزعمل میں ہمیں وحدت الوجود اور وحدت الشھودکی نمایاں علامات و آثار دکھائی دیتے ہیں ۔ وحدت الوجود اور وحدت الشھود کی تعریفات و تفصیلات کے لئے ایک لمبی بحث درکار ہے۔ یہاں اختصار کے ساتھ صرف ا تناکہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وحدت الوجود کے قائل صوفیا کرام کا نظریہ یہ ہے کہ صرف خدا کی ذات کا وجود ہے

اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ جو کہ ہمییں نظر آتا ہے وہ بات خداوندی کے بظاہر 

ہیں ۔ وحدت الشهود کے نظریہ سے وابستہ صوفیا کرام کہتے ہیں کہ موجودات کا الگ وجود ہے ان کی بھی ایک حقیقت ہے ۔ میرے نزدیک وحدت الوجود اور وحدت الشهودایسا تنازع نہیں جس پر دلائل قائم کئے جائیں بلکہ یہ "Approach" کا معاملہ ہے اور ایک

Approach دوسری Approach 

کے مکلف نہیں ہوسکتی 

صاحبو! 

حلاج حسین بن منصور وہ شخص ہے جس کو انا الحق کا نعرہ لگانے کی پاداش میں قتل کیا گیا۔

کوڑے مارے گئے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے سرتن سے جدا کر دیا گیا اور بریدہ اعضاء ء کو آگ میں جلا کر دریا دجلہ میں بہا دیا گیا۔ یہ سب کچھ ابن داود الاصفہانی الظاہری کے فتوی کے بعد کیا گیا جس نے

منصور حلاج کو کافر قرار دے دیا۔ آ ٹھ سال تک قید و بند کی صعوبتوں کے بعد 309د میں سزائے

موت کے فیصلہ پرعمل ہوا۔ گویا حلاج منصور کی کہانی کوئی نئی نہیں صدیوں پرانی ہے۔ بی بھی یادرہے کہ حسین بن منصور حلاج کوئی جاہل صوفی نہیں تھا بلکہ 50 سے زائد کتابوں کا مصنف تھا جس میں کتاب العدل والتوحيد کتاب العالم والمبعوث کتاب علم والبقاوالفناء و کتاب مدح النبی والمثل الاعلی شامل ہیں ۔ منصور حلاج کو حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کی صحبت اور حلقہ تلمذ میں شرکت کا شرف بھی حاصل تھا منصور حلاج کے نظریات کیا تھے اس وقت یہ ہمارا موضوع نہیں لیکن یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ

منصور حلاج کا عقیدہ تھا کہ جو اطاعت میں اپنے نفس کو پختہ کر کے اپنے دل کوعمل صالح کا عادی بنالے دنیاوی لذتوں کو چھوڑ دے اپنی خواہشات اور شہوانیت پر غلبہ حاصل کرلئے وہ مقام مقر بین تک

پہنچ جاتا ہے اور جب اس کا تزکیہ اورتنقیہ زیادہ ہو جاتا ہے تو پھر وہ بشریت کی حدود پھلانگ جاتا ہے اور اس میں بشریت ختم ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی روح میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ گویا حسین بن منصور الحلاج الله کی ذات میں حلول کا قائل تھا۔ ایک شعر میں منصور کہتا ہے تو میری رگ و پے دل و دماغ میں اس طرح جاری و ساری ہے

 جس طرح میری آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ۔ تو میرے میرے دل ودماغ میں اس طرح حل ہو گیا ہے جیسے روح بدن میں جذب ہو جاتی ہے۔ حالاج منصور کے نظریات سے پتہ چلتا ہے

کہ وہ وحدت الوجو کا زبردست حامی تھا ۔ (5) منصور حلاج کو ماننے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے

جس میں قاری کے عظیم المرتبت شاعر اور با کمال سونی جلال الدین رومی علیہ الرحمہ اور حضرت فرید الدین عطار علیہ الرحمہ جیسے احباب شامل ہیں ۔ جلال الدین روی حایات کی اعلا دی عمرانی کرتے نظر آتے ہیں اور حضرت فرید الدین عطار اسے شہید‘‘ کا خطاب دیتے ہیں ۔ میں کبھی سوچتا ہوں کہ حلاج منصور فنافی اللہ کی کسی ایسی منزل پرتو نہیں بچ گیا تھا جو 'کن فیکون سے پرے کا کوئی

مقام ہو۔ واپسی کا سفر بھی تو کیا جا سکتا ہے۔ کل شئی یرجع الى اصله -، میں کئی دفعہ صوفیاء کرام کے کلام کو پڑھتا ہوں تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ کئی صوفیاء کرام ایسے ہیں جنہوں نے منصور

حلاج کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کی اور وحدت الوجود کا پرچار نہیں کیا لیکن ان کے کلام سے لگتا ہے وہ بھی اسی راہ کے مسافر اور اسی منزل کے راہی ہیں ۔


ذرا دیکھئے بابا بلھے شاہ کہتے ہیں ۔ 

بلھا شاہ اساں مرنا ناہیں

گور پیا کوئی ہور



خواجہ غلام فرید کہتے ہیں ۔ 


کتھے راز انا الحق فاش تھیا

کتھے سبحانی داورد پڑھیا


حضرت سلطان با ھو علیہ الرحمہ کہہ رہے ہیں ۔


اندر بھی ھو باہر بھی ھو

باھو کتھاں لبھیوے ھو


حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمہ کہتے ہیں۔

مٹا دیا میرے ساقی نے عالم من و تو

پلا کے مجھ کومئے لاالہ الا ھو 

صاحبو!

میں جب موسی علیہ السلام کا واقعہ پڑھتا ہوں اور درخت سےنکلنےوالی اس آواز کو سنتی ہوں 

"انی انا الله رب العالمین 

(بے شک میں ہی تیرا رب العالمین ہوں )تو حیران و دم بخود

ہوکر سوچنے لگتا ہوں کہ ایک درخت جو ساکت و جامد ہے سوچ وفکر فہم و فر است سےعاری ہے ۔

دل و روح سے خالی ہے۔ احساسات و جذبات سے نابلد ہے اگر اللہ کے نور جلال اور تجلی کا آئینہ دار ہوکر اللہ

کے کلام کامحل بن سکتا ہے تو اللہ کا بندہ جذب وفنا ہو کر اللہ کے کلام کا محل کیوں نہیں بن سکتا؟ کیا یہ بعید 

از امکان ہے ؟ یا بعید از قياس ؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ منصور نے انی انا الله نہیں کہا اور نہ ہی انی انا ربک کہانہ ہی اللہ ہونے کا دعوی کیا اور نہ ہی رب ہونے کا اعلان کیا

۔ اس نے "انا الحق کا نعرہ لگایا۔

یہاں امام غزالی علیہ الرحمہ کی منصور حلاج کے حوالے سے بڑی روح افزا بات خالی از فا ئدہ نہ ہوگی ۔

آپ لکھتے ہیں کہ مقتل جانے سے ایک دن قبل میں شبلی علیہ الرحمہ نے جا کر منصور سے دریافت کیا

منصورمحبت کیا ہے؟ اس نے کہا یہ سوال کل پو چھنا۔ دوسرے دن اسے مقتل کی طرف لے جارہے تھے تع شبلی کو دیکھ کر کہا 

 محبت کی ابتدا جلنا او انتہا قتل ہو جانا۔

منصور نے جب اس رمز کو پالیل الاکل شئی ماخلام الله باطل 

اللہ کی ذات کے سوا ہر شے باطل ہے ۔ ذات الہی ہی حق ہے۔ تو وہ اپنا نام تک بھول گیا پوچھا گیا تمہارا نام کیا

ہے تو جواب دیا میں ’’حق ہوں“۔ (8) حق کا لفظ قرآن کریم میں متعدد معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

منصور حلاج کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ جب اسے قتل کیا گیا اس کے جس کے ٹکڑے کئیے گئے

 تو کٹے ہوئے ہر عضوسے "انا الحق کی صدا آرہی تھی ۔ اس بات میں کس قدر

صداقت ہے اللہ تعالی کی ذات بہتر جانتی ہے۔

مجھے تو اس طویل گفتگو کے اختتام پر ایک انتہائی مختصر بات کہنی ہے جوکئی سال پہلے میرے قلم سے

سرزد ہوئی تھی ۔ دراصل میں نے اس مختصر جملہ کے لئے ہی یہ ساری تمہید باندھی ہے۔ بالفاظ دیگر

تمنا مختص سی ہے مگر تمہید طولانی

‘‘۔ اب وہ جملہ ملاحظہ کیجئیے

.

جب اول وہ ہوجائے 

آخر وہ ہوجائے 

باطن وہ ہوجائے 

ظاہر وہ ہوجائے

تو........... 

منصور بیچارا مارا جائے۔




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے