Subscribe Us

Learn To Live For Others

 

دوسروں کے لئیے جینا سیکھو
we rise by lifting  others

 دوسروں کے لئیے جینا سیکھو

  


علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے خوب کہا تھا

خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں 

بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو

خدا کے بندول سے پیار ہو گا

اب آئیے دو احادیث کا مطالعہ کر لیجئے تا کہ ہماری بات مز ید باوقعت اور مستند ہوجائے مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

: بیوہ اور مسکین کیلئے امدادی کوشش کرنے والا اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا اس شخص کی طرح جودان کو روزہ رکھے اور رات کو قیام کرے ( بخاری شریف کتاب الادب باب 25 ) ایک دوسرے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالی کی رضا کے لئے کسی یتیم کے سر پربت بھرا ہاتھ پھیر ے تو جتنے بالوں پر اس کا ہاتھ گزرے گا ہر بال

کے بدلے اسے نیکیاں ملیں گی اور جس نے کسی یتیم بچہ یا بچی کے ساتھ اچھا سلوک کیا وہ جنت میں میرے اتنا قریب ہو گا جتنا میرے ہاتھ کی دوا گالیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں ۔ (مسند احمد : جلد 5)

صاحبو!

مندرجہ با محروشات اور گزارشات جو میں نے آپ کے گوش گزار کی ہیں ، اس کی بنیادی وجہ دراصل ایک Motivation ہے جوکئی سال پہلے میرے ایک دن اور مر نبی کی افتاد کے نتیجہ میں پایا

ہوئی ۔ اس موضوع پر راقم نے 2004ء میں چند سطوریات میں تو ہر کی تھیں ۔ ایک بار پھر اسی موضوع پرچند جملے پیش خدمت ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ اس دفعہ راقم نے اس موضوع کو بات این است اما بیش الی بات اور دیگر حوالہ جات سے مزین کرنے کی کوشش کی ہے۔ انتشار کے اختتام پر انہیں طور که معمولی ترمیم کے

ساتھ اعادہ کر رہا ہوں جو 2004 میں ، میں نے تم کی گئی تھیں۔میرے ایک جاننے والے جو میرے لئے بڑے قابل احترام ہیں (5) ۔ انہوں نے ایک مرتبہ گفتگو کرتے ہوئے بہت زور دے کر اور ہمارے ضمیر کو جھوڑتے ہوئے ایک جملہ کہا تھا جو کئی سال

گزرنے کے بعد اب بھی مجھے یاد ہے۔ وہ جملہ تھا دوسروں کے لئے جینا سکھ کی بات یہ ہے کہ ان کی تقریبا ایک گن کی گفتگو میں سے مجھے یہ ایک جملہ اور اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے جو مثال دی تھی ، وہ یاد ہے۔ اس کے علاوہ ان کی گفتگو سے تعلق اور کوئی بات یا نہیں۔ ......... اس جملہ کے یادرہے کی جو وجہ بجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ موصوف نے میرے دل کی بات کہہ دی یا یوں کہ لیں کہ ان کی آواز کے ساتھ میرے دل کی " Frequency Match ہوگئی تھی ۔ بہر حال جو انہوں نے مثال دی وہ بھی آپ کو بتاتا ہوں انہوں نےفرمایا جاپان میں ایک انتہائی امیر شخص ہے جو دنیا کاتیسرا بڑا امیر زادہ ہے۔ اس سے کسی نے دنیا ہی میں جتاتے۔ ایسے گئے تو اس جواب دیا کہ میں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ ا یہ کرسی سدان حیات دیتی ہے اور میں یہ میں وہاں سے سیکھا ہے کہ جو دوسرے کے لئے نفرت کرتا ہے اس کے اس میں چند در چند اضافہ ہوتا چلاجاتا ہے۔ بس میں نے اس اصول کو اپنا لیا ہے جن میں اس دنیا کے امیر ترین لو گوں میں شمار کیا جاتا ہوں ۔

اگر ہم اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں اور ماحول معاشرے اور ملک کا تجزیہ کریں تو بآسانی سے اعداد و شمار اکٹھے کئے جا سکتے ہیں کہ دوسروں کے لئے کتے کو جیتے ہیں اور اپنے سے نے اس مہینے میں میرا تجھ یہ یہ ہے کہ دوسروں کے لئے جینے والوں کو مار کرنے کی ضرورت کی میں نہیں ہوئی اس لئے کہ ان کی تعداد تو قلیل محدود ہے کہ بے چارے کی خیار میں ہی نہیں ہر جانب نفسا نفسی ہے ہر سو نفس پرستی ہے ہر سمت مادہ پرستی ہے اگر کسی سے کہا جائے کہ صاحب دوسروں کے کے کام آؤ دوسروں کی تکالیف اٹھاؤ دوسروں کو مسائل سے بچاؤ تو جواب ملتا ہے ہمارے اپنے مسائل بہت زیادہ ہیںہمیں خود بہت سے کام نمٹانے ہیں۔ پھر یہ جواب ملتا ہے بہت Welfare کرکے د یکھی ہے کوئی فائدہ نہیں یہ نیکی کا زمانہ نہیں ہے بھلائی کا دور نہیں زمانہ بدل گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لئے تکلیف نہیں اٹھاتے بلکہ دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں دوسروں کے مسائل حل نہیں کرتے بلکہ دوسروں کے لئے مسائل پیدا کرتے ہیں دوسروں میں خوشیاں نہیں بانٹتے بلکہ ان میں دکھ تقسیم کرتے ہیں دوسروں کے زخموں پر مرہم نہیں رکھتے بلکہ نمک چھڑکتے ہیں دوسروں کی عزت و آبرو کا خیال نہیں کرتے بلکہ ان کو بے عزت و بے آبرو کرتے ہیں دوسروں کو سکون و راحت فراہم نہیں کرتے بلکہ ان کو بے سکون و پریشان کرتے ہیں مجھے تو یہی لگتا ہے کہ ہم اچھائی بھلائی اور فلاح کے وجود کو ہی ختم کرنے پہ تلے ہیں

 دوسروں کے لئیے جینا سیکھو

 

  

دوسروں کے لئیے جیناسیکھو
God Is Protecting  me in all situation 



رہی بات زمانہ بدل جانے کی تو یہ بڑی لایعنی بات ہے ابھی تک تو

کچھ نہیں بدلا سورج کے اندر روشنیو تپش موجود ہے چاند کے اندر چاندنی و چمک موجود ہے ستاروں کے اندر جگمگاہٹ و جھلملاہٹ موجود ہے ہوا کے اندر نمی و آکسیجن موجودہ ہےزمین کے اندر سامان خوردونوش موجود ہے۔ سمندروں کے اندار پانی وطغیایانی موجود ہے تو برلا تو کچھ بھی نہیں ... زمانہ بدلے گا ضرور بدلے گا۔یقیننا بدلے گا جب بڑا زلزلہ آئے گا... سورج بے نور ہو جائے گا چاند شق ہو جائے گا پہاڑ روئی ہو جا ئیں گے

انسان پتنگے ہوجائیں گے اور پھرلمحہ بھر میں سب بدل جائے گا جب زمانہ بدلے گا تو سب کو ادلا کا بدلا مل جائے گا ا بھی تو کچھ بھی نہیں بدلا۔ہاں یہ مانتا ہوں میں کہ۔۔۔۔

حالات بدل گئے ہیں رویے بدل گئے ہیں انداز بدل گئے ہیں روایات بدل گئی ہیں رسومات بدل گئی ہیں۔رحجانات بدل گئے میں ترجیحات بدل گئی ہیں نتیجتا اثرات بدل گئے ہیں اور یوں ہمیں سب بدلا بدلا سا نظر آتا ہے۔

صاحبو!

آج بھی پھولوں میں خوشبو موجود ہے لیکن سونگھنے کی حس متاثر ہو چکی ہے پھلوں میں ذائقہ و ر س موجود ہے لیکن زبان میں کڑواہٹ پیدا ہوگئی ہے۔ ماحول میں آسودگی نہیں ملتی اس

لئے کہ اندر آلودگی سے بھر گیا ہے۔ ہر سوانتشار دکھائی دیتا ہے کیونکہ ہر کوئی منتشر ہو چکا ہے۔ سبب کیا ہے؟ بس یہی کہ فرد سے معاشرہ تک معاشرے سے سلطنت و حکومت تک ہر کوئی اپنے

لئے ہی جینا چاہتا ہے۔ ہرکسی کو اپنی فکر لاحق ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا افراتفری نفسانفسی اور انتشار و افتراق کا شکار ہے۔ اگر ہم سکون چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کو سکون فراہم کرنا ہوگا ۔

اگر ہم امن چاہتے ہیں تو دوسروں سے محبت کرنا ہوگی ۔ اگر ہم مسائل سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو دوسروں کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ اگر ہم پریشانیوں سے نجات چاہتے ہیں تو دوسروں کے لئے دل جوئی کا سامان پیدا کرنا ہوگا۔ اگر ہم اپنے دکھوں کا مداوا چاہتے ہیں تو دوسروں میں خوشیاں بانٹنا ہوں گی الفرض اگر ہم زندگی چاہتے ہیں تو دوسروں کے لئے جینا ہوگا اور سب کو یک

نکاتی فارمولا ”دوسروں کے لئے جیو اپنانا ہوگا ور نہ کسی کی بھی خیر نہیں خواہ وہ مسلم ہو یا عیسائی یہودی ہو یا مجوسی ....... بد ھ مت ہو یا ہندومت کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو یا آزادمنش

.

سب کیلئے بچاؤ کا سہی ایک راستہ ہے۔ یہی ایک جادہ ہے اور یہی ایک سبیل ہے۔ اس فارمولا کو لائحہ عمل میں بدلنے کے لئے کسی سرمایہ کاری یا سرمایہ داری کی ضرورت نہیں ۔ کسی بجٹ یا

کریڈٹ کی ضرورت نہیں ۔ کسی Short Term Long Term منصوبہ سازی کی ضرورت نہیں کسی جماعت سازی یا سیاست بازی کی ضرورت نہیں اگر ضرورت ہے تو محض ایک چیز

کی کہ دوسروں کو مقدم ٹھہراؤ اور خودموخر ہو جاؤ ۔ انشا ء اللہ حالات بدلنے میں تاخیر نہیں ہوگی یہ بھی یاد  

رکھئیے رحمت عالم نبی خیر الامم صلی اللہ علیہ وسلم نے 

"خير الناس من ينفع الناس،

کہہ کراس شخص کو بہترین انسان قرار دیا جو دوسروں کے لئے نفع بخش ہے اور قرآن نے 

"واماماينفع الناس فيمكث في الارض "

کہہ کر اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ دھرتی پر باقی

وہی چیز رہے گی جولوگوں کے لئے نفع بخش ہوگی (7)

افراد قوموں اور معاشروں کے عروج و زوال کا یہی معیار ہے۔ اگر ہم بزم ہستی اور بزم کا ئنات کی رونقوں کی بقا چاہتے ہیں تو پھر اپنی ذات کو اپنے معاملات کو اپنے معمولات کو اپنے اوقات کو دوسروں

کے لیے نفع رساں بنانا ہوگا۔






ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے