"کدی آ مل سانول یار وے"
![]() |
| اردو ناول |
کوئی کامل پیر فقیر دسو جہیڑا دل دے نال دعا دیوے میں اداس ہاں بہت عرصے توں میرے روندے نین ہسا دیوے کھائے رحم مجبوری دی حالت تے مینوں مرشد دید دی دعا دیوے نہ گھر منگدی ہاں نہ زر منگدی ہاں بس مرشد یار ملا دیوے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ وہ واپس اپنی چئیر پہ آگری تھی۔حمنہ جو دروازے پہ نظریں مرکوز کئیے بءٹھی کھل کھکا کر ہنسی تھی ۔۔ جوابا بریزے اسے گھور کے رہ گئی تھی شرم کرو کوئی۔۔۔بریزے نے دانت پیسے تھے کیوں؟ بڑی چنگیز خان کی دادی بن رہی تھی ۔۔اب کیا ہوا؟ سارا اعتماد ہوا ہوگیا نا؟ حمنہ ہنستے ہوئے بولی تھی جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔بریزے نے اپنا بھرم رکھنا چاہا تھا۔ ہاہاہاہایا۔۔مان لو میری جان ۔۔سر کی شخصیت ہی اتنی رعب دار اور باآثر ہے بندہ خود ہی ہوا ہو جاتا ہے انکے سامنے۔تم نے دیکھا نہیں انکی پرسنلٹی کتنی گریس فل ہے۔۔اتنا وقار، سنجیدگی، اتنے بارعب دکھتے ہیں ۔سچ میں مجھے انکے سامنے جاتے ہی ڈر لگتا ہے ۔حمنہ نے سچائی بیان کی تھی بس بس بس۔۔۔میری ماں بس ۔۔بریزے نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑے تھے اتنی وہ توپ چیز ہیں نہیں جتنا تو بیان جھاڑ دیا ہے ۔اک عام سا انسان ہے ۔ہم سب جیسا عام انسان اپنی شخصیت نکھارنے کا شعور ہونا چاہئیے بس تو وہ اک پینڈو آدمی بھی نکھار سکتا ہے۔اگر اس میں شعور اور سمجھ بوجھ ہو تو۔ اسے اپنا خیال ہو تو۔۔۔ہاں البتہ اضافی پوائنٹ انکی امارت ہے دولت ہے ۔باقی مرد تو ان سے بھی حسین ہیں مس حمنہ۔۔بریزے نے پوری وضاحت دی تھی نہ مانو تم ۔تمہاری مرضی مگر سر ذی شاہ جیسا دوسرا کوئی نہیں ہے حمنہ اپنی بات سے ہٹنے کو تیار نہیں تھی پھر تم پھولی سانسوں کے ساتھ کیوں لوٹی ہو؟ منہ پہ بارہ کی جگہ تیرہ بج رہے ہیں ۔حمنہ نے مذاق اڑیا تھا۔ اسٹاپ اٹ حمنہ ۔۔۔میں انکی شخصیت دیکھ کر مرعوب نہیں ہوئی ۔۔دو چکر لگا کے آرہی ہوں اس فورتھ فلور سے نیچے پارکنگ تک ۔۔اوپر سے اتنا سڑیل مزاج جیسے کڑوا کریلا۔غصہ ناک پہ دھرا ہے ۔بات کوئی بعد میں کرتا ہے غصہ پہلے کرتے ہیں جناب۔سڑیہ ۔۔۔بریزے نے تفصیل کے ساتھ اسے خطاب بھی دے ڈالے تھے ۔حمنہ بھی ہنس دی تھی ہاں اس میں شک نہیں سڑیل تو واقع بہت ہیں چھوڑ یار کن باتوں میں لگ گئی ہے۔ابھی پورا انبارفائلوں کا متھے مار دیا ہے۔وہ ہورا کرنا ہے تو چھٹی ملنی ہے ۔ورنہ رات یہی بسر کرو جی۔بریزے بیزاریت سے سامنے رکھی فائل کو دیکھا تھا ہاہاہاہاہاہا۔۔۔کوئی مسلہ نہیں سب کو ملا ہے ۔باس نے پچھلے سالوں کے ادھورے کام آج ہی مکمل کروانے ہیں سو آرام سے کرو۔ہم سب یہی ہیں کام مکمل کرکے جائیں گے۔حمنہ نے اسے تسلی دی تھی۔وہ بھی شکر کا کلمہ پڑھتی فائل میں سر دے کے بیٹھی گئی تھی ☆☆☆☆. دنیا کتنی چھوٹی سی ہے نا تم پہ آکر رک سی گئی ہے بریزے احمد شہر کی مشہور اور بڑی کنسٹرکشن کمپنی میں جاب کر رہی تھی ۔اسکے والد صاحب سکول کے ہءڈ ماسٹر تھے۔سکول سے ریٹائر ہونے کے بعد بیمار رہنے لگے تھے جاب کے دوران تو گھر کا خرچا چل جاتا تھا ۔بعد میں پنشن بھی ٹھیک ٹھاک تھی مگر جب سے ابا بیمار رہنے لگے تھے آدھا خرچ انکی دوائیوں کا بن گیا تھا۔نہ کچھ سمجھ آرہی تھی بیماری کی نہ وہ ٹھیک ہورہے تھے۔الٹا اور کمزور ہوتے جارہے تھے ۔بریزے انکی اکلوتی اولاد تھی ابا کا دل تھا اسے بہت پڑھاؤں اس لئیے شہر کی اچھی یونیورسٹی سے سی ایس کروایا تھا اب گھر کے حالات دیکھ کر اسنے جاب کا سوچ لیا تھا۔اماں تو اسکی نوکری کے حق میں نہیں تھیںوہ جلد از جلد اسکے ہاتھ پیلے کرنا چاہ رہی تھیں ۔مگر اک طرف ابا کی بیماری آگئی اور دوسری طرف چچا سے بات بھی نہیں ہوپارہی تھی اس لئیے ہر طرف خاموشی تھی ۔اسی خاموشی کو غنیمت جانتے بریزے نے جاب شروع کر لی تھی۔پچھلے چھ سات ماہ سے سب کام سیٹ تھے۔سر حارث ذی شاہ کے والد انتہائی نرم مزاج اور دوستانہ فطرت کے مالک تھے کوئی ورکر غلطی بھی کردیتا تو بہت نرمی سے سمجھا دیتے تھے ۔مگر دو دن سے ذی شاہ آفس آرہا تھا ۔وہ سول انجینئیر تھا حال ہی میں ایم ایس کرکے لوٹا تھا اب وہ حارث صاحب کی جگہ آفس آتا تھا۔بریزے چونکہ پچھکے دو دن سے ابا کی بیماری کی وجہ سے چھٹی پر تھی سو اسے معلوم بھی نہ تھا ۔پہلا سامنا تھا اور اس سڑیہ بدمزاج بندے نے اوپر نیچے دو چکر اک ہی وقت میں لگوا دئیے تھے اوپر سے اتنا بوجھ لاد دیا تھا وہ دو دن سے تھکی رات کو بھی سو نہیں پائی تھی دو دن مسلسل ابا کے ساتھ ہسپتال رہنے اور جاگنے سے طبعیت میں عجیب بیزاری اور چڑ چڑا پن آگیا تھا سر الگ پھٹا جارہا تھا ۔آفس میں اسکی حمنہ کے سوا کسی سے زیادہ بات چیت نہ تھی سواسکے مسائل کا بھی کوئی جانتا نہ تھا۔حمنہ سے بھی اسنے کبھی گھریلو معاملات ڈسکس نہیں کئیے تھے۔بریزے اپنے آپ میں مگن رہنے والی لڑکی تھی جی چاہتا تو گھنٹو ہنس ہنس کے بولتی سب سے اور جی چاہتا تو پہروں چپ بیٹھی نجانے لیا کچھ سوچتی رہتی تھی۔کام کرنے بیٹھتی تع منٹوں میں سارے کام ختم کرلیتی ۔نہ دل چاہتا ہو تو دس منٹ کا کام بھی ہفتے بھر تک ختم نہ ہوتا۔سو ابھی بھی اسے جلدی سے کام ختم کیا تھا اور سب سے پہلے فائل جمع کروا کے نکل آئی تھی ۔اب اسکا ارادہ گھر جاکے لمبی تان کع سونے کا تھا مگر گھر داخل ہوتے ہی نیا مسلہ اسکا منتظر تھا ☆☆☆ |
اب خاموشی کو رکھیں گے انداز بیاں اپنا نہ کسی سے بولیں گے نہ کسی کو ناگوار گزرے گا وہ آفس سے لوٹتی تو اماں ابا دونوں کھانا لگائے اک دوجے سے خوشگوار موڈ میں باتیں کرتے ملتے تھے ۔مگر آج ابا اپنے کمرے میں تھے اور اماں الگ سے صحن میں بیٹھی نجانے کن سوچوں میں الجھیں تھیں ۔اسنے بیگ اندر رکھا عبایا اتارا اور بنا منہ ہاتھ دھوئے سیدھا اماں کے پاس آگئی تھی اماں کیا بات ہے؟ کوئی بات ہوئی ہےکیا؟ اسنے نرمی سے پوچھا تھا۔اماں مخض نفی میں سر ہلا کر رہ گئیں تھیں۔ اماں اس طرح چھپانے سے کیا میں بہل جاؤنگی؟ میں آپکی بیٹی ہو. مجھے بتائیں کیا ہوا ہے؟ ورنہ پچھلے سات آٹھ ماہ سے جو آپکا اور ابا کا معمول ہے وہ میں جانتی ہوں ۔ابا الگ کمرے میں لیٹے ہیں آپ باہر الگ سوچوں میں گم ہیں مجھے بتائیں اماں کیا بات ہے؟ کچھ نہیں پتر تو چل منہ ہاتھ دھو میں تیرے لئیے کھانا نکالتی ہوں۔تیرے ابا کی زرا طبعیت نہیں ٹھیک تھی اس لئیے میں نے جلدی کھانا دے کر دوائی کھلا دی تو ایویں پریشان نہ ہو۔چل میرا پتر۔۔اماں نے پیار سے پچکارا تھا نہیں اماں آپکو پتہ ہے مجھ سے اک نوالہ بھی خلق سے نہیں اترنا جب تک اصل بات نہ معلوم ہوجائے۔کچن مءں رکھے برتن اور لوازمات کوئی اور کہانی سنا رہے ہیں وہ بھی پوری ضدی تھی اڑ گئی تھی۔ پتر تیری چچی آئی تھی ساتھ فہد بھی تھا۔اماں نے بلآخر بھانڈا پھوڑ ہی دیا تھا تو پھر؟؟ وہ تو پہلے بھی کئی بار آتے ہیں ۔۔آج کیا نیا ہوا ہے؟ آج نیا یہ ہوا کہ تیری چچی چاہتی ہے ہم فہد کو گاڑی لے کر دیں اور یہ گھر بھی اس کے نام کردیں۔۔اماں کی بات سن کر تو وہ اچھل پڑی تھی۔ کیا؟؟؟؟ گاڑی؟ گھر؟ کس خوشی میں؟ انہوں نے رشتہ لینا ہے یا سودا کرنا ہے؟ میں تو بہت سمجھایا ہے مگر تیری چچی کہتی ہے ریٹائرمنٹ کے بعد جو بھائی صاحب کو بیس لاکھ ملے ہیں وہ بھی تو آخر بریزے کا شوہر ہونے کے ناطے فہد کا حق بنتا ہے فہد کو ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب مل چکی ہے وہ چاہتا اپنا اور یہ گھر بیچ گھر ڈیفنس میں کوٹھی خریدے وہ ہمیں بھی وہی لے جائے گا۔اس طرح ہم سب اک دوجے کے ساتھ رہیں گے ۔اماں کی کہانی سن کر وہ ساکت رہ گئی تھی۔ اماں کیا ہم اتنے الو نظر آتے ہیں انکو؟ عقل سے پیدل ہیں ہم؟ یا دماغ خراب ہے ہمارا؟ ساری عقل گھاس چرنے چلی گئی کیا ہماری؟ کوئی کچھ نہیں دینا انکو۔یہ گھر آپکا اور ابا کا ہے اور جو کچھ ملا ہے وہ بھی ابا کا ہے خبردار کسی نے انکا نام بھی لیا تو۔۔وہ تو ہتھےسے اکھڑ گئی تھی۔اماں کو پہلے ہی پتہ تھا عہغصت میں کم ہی آتی ہے مگر جب آجائے تو پھر لخاظ کسی کا نہیں کرتی۔۔۔آب چپ رہیں بس بس میں خوس بات کروں گی فہد سے۔۔۔ مگر بیٹا میتی بات سنو نا۔ہم لڑکی والے ہیں ہم۔۔۔ بس اماں ۔۔۔۔اسنے ہاتھ اٹھا کر بیچ میں ہی اماں کی بات کاٹ دی تھی لڑکی والے ہیں تو کیا ہوا؟ اسکا مطلب کیا ہوا؟ مجبور ہیں؟ لوگ ہمیں بیچ کھائیں؟ اماں آپ اور ابا بہت بھولے ہیں انکی چالاکی نہیں سمجھ رہے ۔۔آپ بس چپ رہیں ۔۔مگر پتر تیرے ابا تو راضی ہیں انہیں تیری فکری ہے اور وہ چاہتے ہیں زندگی کا تو پتہ نہیں بس جلد از جلد تیرے فرض سے سبکدوش ہونا جائیں۔انہوں نے فہد سے کہا ہے گاڑی پسند کرلے مل جائے گی اورپیپر بنوالے جس گھر نام ہوگا اسی دن نکاح ہوگا۔یہ کیا دھماکہ کیا تھا بریزے تو اپنی جگہ سے اچھل پڑی تھی ناممکن ۔۔۔ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔۔کبھی بھی نہیں۔می. خود بات کروں گی ابا سے ۔میں کھلونا نہیں ہوں ۔۔۔بریزے نےفساد کھڑا کرلیا تھا ۔اماں کو پہلے ہی پتہ تھا وہ کبھی نہیں مانے گی ۔۔وہ تن فن کرتی کمرے میں چلی گئی تھی۔اماں پھر سے سر پکڑ کے بیٹھ گئی تھی ☆☆☆☆. |


0 تبصرے