Subscribe Us

Isheque Kahani

 

              "یہ عشق"


کیا تم جانتے ہو یہ جو عشق ہے نا یہ تجسس میں پھرتا ہے اسکی نشوونما جستجو میں پروان چڑھتی ہےجب تک یہ تجسس جستجو لئیے پھرتا ہے یہ ہمیشہ جوان سر سبزو شاداب رہتا ہے
میرا عشق وی تو


کیا تم جانتے ہو یہ جو عشق ہے نا یہ تجسس میں پھرتا ہے اسکی نشوونما جستجو میں پروان چڑھتی ہےجب تک یہ تجسس جستجو لئیے پھرتا ہے یہ ہمیشہ جوان سر سبزو شاداب رہتا ہے اک سرور کی کیفیت میں محو رقص ملتا ہے ہجر کی آگ اسے ہمیشہ گلی گلی نگر نگر خوشبو بن کے فضاؤں میں اڑائے پھرتی ہے۔مگر جہاں یہ تجسس یہ جستجو احتتام پذیر ہو جہاں ہجر کی آگ کو وصل کی برف ملتی ہے یہ منجمد ہونے لگتا ہے اسکے اندر سے سرور مستی اور بے خودی حتم سی ہوجاتی ہے۔تمہارے عشق نے بھی میرے تخیل میں اک خوبصورت سی بستی آباد کردی ہے وہ بستی جہاں اترتے ہی سامنے خواب نگر کی تختی آویزاں نظر آتی ہے۔اس بستی میں رنگ ہیں خوشبوئیں ہیں تتلیاں ہیں۔چاند کی ٹھنڈی چاندنی ہے سر مست سی پرسرور ہوا ہےزیتون کے تیل سے مدھم لو میں جلتے دئیوں کی مدھم لو ہے تنہائی ہے میں ہوں اور تمہارا ساتھ ہے۔جب دنیا کے آسماں پہ تاریکی چھا جاتی ہے دنیا رات کے اندھیرے میں اپنے اپنے بستروں میں محو استراحت ہوتی پریاں اتر کے آتی ہیں اور اس نگر کا دروازہ واء کرتی ہیں۔جہاں خوشبوؤں سے لدے دلنشین پھولوں کی لمبی راہگزر پہ میں تمہارا ہاتھ تھامے گھنٹوں چلتی ہوں۔کبھی کسی بہتی صاف شفاف ندی کے قریب کسی پتھر پہ بیٹھ کے پہروں تیرے چاند سے چہرے کی مسکراہٹ پہ قربان جاتی ہوں ۔کہیں ٹھنڈنی چاندنی اور تاروں بھرے آسماں تلے بچھے تخت پہ آنکھیں بند کئیے لیٹے تمہاری صورت کو پہروں دیکھتے تیرے چہرے کے نین نقوش حفظ کرنے میں رہتی ہوں۔کہیں کالا جوڑا پہنے اپنے محبوب کے صدقے اتارتی ہوں۔یقین جانو یہ دنیا تیری میری اس حقیقی دنیا سے بےحد حسین ہے جہاں درد نہیں ہے جہاں جھوٹ بے ایمانی دھوکہ نہیں ہے جہاں عزت ہے جہاں سچ ہے جہاں نور ہے جہاں پاکیزگی اور حیاء ہے جہاں تیرا میرا عشق ہے۔اور تم جانتے ہو اس بستی میں بستے مجھے کتنے برس بیت گئے ہیں اسی بستی میں میرا استاد عشق رہتا ہے جو دیمک بن کے میرے وجود کو کھاتو گیا ہے مگر اسنے مجھے بہت سے سبق بھی دئیے ہیں۔اسنے مجھے فیشن سے حیاء سیکھائی ہے اسی عشق نے میرے وجود کو پختگی میرے لہجے میں ٹھہراؤ اور میرے لفظوں میں عاجزی بیدار کی ہے۔تم یقین جانو میں وصل کی برف خانے سے زیادہ ہجر کے اس آتش کدہ میں بہت زیادہ پرسکون ہوں۔میں ہمیشہ اس تجسس کے عشق میں جینا چاہتی ہوں۔جہاں ہر ملن کی آنے والی رات گزری رات سے زیادہ دلکش و حسین ہوتی ہے۔جہاں بن پئیے بندہ مدہوش رہتا ہے جہاں ساقی کے مے خانے کی ضرورت نہیں بچتی جہاں محبوب کی نظر بھر بھر کے جام پلاتی ہے۔میں اس بستی کی باسی ہوں خواب نگر کی باسی ۔ہاں میں مخاطب تمہی سے ہوں۔

   #ایمی


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے