Subscribe Us

Dua

 

      "دعا کس طرح مانگیں"

 
دعا عبادت کا مغز ہے
دعا عبادت کا مغز ہے




دعا معانی کے اعتبار سے بڑا زرخیز لفظ ہے اور عمل کے اعتبار سے بیش بہا اثرات وثمرات و الا فعل ہے دعا کے معانی استدعا ۔ انتہا۔ مناجات ۔ عبادت اور پکار نے کے ہیں ۔ دعا وظیفہ بھی ہے اور راز و نیاز بھی سہارا بھی ہے اور امید بھی رابطہ بھی ہے اور واسطے بھی ........... مان بھی ہے اور ایمان بھی

اگر ہم دنیا کی تاریخ جاننا چاہتے ہیں تو یہ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کے تاریخ آدمیت حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواسلام اللہ علیھا نے اپنی اجتہادی خطا کے بعد سب سے پہلے اللہ رب العزت کے حضور دعا فرمائی تھی (1):

قالا ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنكونن من الخسرين

(ترجمہ ) دونوں نے عرض کیا اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے ) گویا بندوں میں

سب سے پہلے دعاما نگنے کا شرف سیدنا آدم علیہ السلام اور اماں حوا سلام الله علیھا کو حاصل ہے ۔ قرآن پاک میں متعدد مواقعوں پر اللہ رب العزت نے دعا ۔ انداز دعا ۔ دعا کی قبولیت وغیرہ جیسے موضوعات کے حوالے سے آیات کا نزول فرمایا۔ (2)

یادرہے کہ اس وقت ہمارا موضوع سخن دعا کی فضیلت یا کسی کی قبولیت کی شرائط وغیر ہ پر سیر حاصل بن کر نہیں بلکہ دنیا کے اسلوب سے متعلق چند معروضات پیش کرنا ہے اللہ تعالی کے پیارے نبی باعث وجہ تخلیق کائنات حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کے فرامین میں میں دعا مانگنے کے اسلوب کے حوالے سے راہنمائی کی ہے ایک موقع پرحضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اپنی ہتھیلیوں کے باطن سے سوال کرو اور تھیلیوں کی پشت سے سوال کرو (3) دوسری جگہ فرمایا تمھارا رب حیاوالا کریم ہے جب اس کا کوئی بندہ اسکی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو ان کو خالی لوٹانے سے حیا فرماتا ہے (4)

اور جتنے بھی سہارے ہیں سبک کرتے ہیں

عزت نفس بڑھاتا ہے سہارا. تیرا

اگر آپ احادیث کا مطالعہ کریں تو آپ کو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ہاتھ بلند کر کے دعا مانگنے کا اسلوب ثبوت سنت نبوی سے ضرور جائے گا۔ قرآن و حدیث میں جس قد ردعا کی افادیت وفضيات

مد کا مقصد پر زور دیا گیا ہے اس قدر طریقت دعا پر قط از دو نہیں دیا گیا۔ اگر آپ کسی دعوتی وتبلیغی جماعت سے دعا کا طریقہ سیکھنا چاہیں گے تو وہ آپ کو ماپ تول کر اور پوری Measurement کیساتھ بتائیں گے کہ ہاتھ کیوں بند کر یں اس زاویہ پراٹھائیں۔ ہاتھ کیوں کھول کر باہم ملا کر دعامانگیں ۔ بدعا

مانگنے کا صیح طریقہ ہے اور سنت کے عین مطابق ہے۔

سا ہوا مجھے معاف کرنا دین کے علمبرداروں کی واضح اکثریت دینی احکامات اور دینی تعلیمات کی روح‘ سے ناواقف ہے آسان دین کو مشکل بنا کر پیش کیا جارہا ہے سنت کو فرش اور مستحب کو واجب قرار دے دیا گیا ہے ۔ انداز اسلوب اور طریقہ کار پر توجہ ہے اور اس عمل کی روح یعنی اصل سے عدم   

توجہ برتی جارہی ہے یہاں ضمنا ایک دلچسپ واقعہ بیان کئے دیتا ہوں ۔ میاں شیر محمد شر تیوری علیہ الرحمہ سلسلہ نقشبندیہ کے ایک معروف روحانی بزرگ گزرے ہیں ان کا شمار پاک و ہند کے ان اولیا کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی روحانی عظمت و کردار کے باعث لاکھوں گم کردہ لوگوں کو سیدھا راستہ دکھایا ۔

زندگی کا یہ کلمہ سنت نبوی کے مطابق گزار کے خلاف سنت در این فعل بھی دیکھنا بھی گوارا نہ کیا ایک مرتبہ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے اور مسجد کے دوسرے کونے میں ایک شخص کسی دوسرے شخص کو نماز کی ادائیگی کا طریقہ مجارہا تھا کہ کبھی تو یہ اس طرح کہتے ہیں ۔ رکوع میں اس طرح مجھکتے ہیں ۔ جدہ میں فلاں فلاں اعضا ءزمین سے گئے ہیں قومه قعدة جلسہ وغیرہ ہے۔ الغرض جب وہ نماز پڑھنے کا طریقہ پوری طرح سمجھا چکا تو آپ نے اس شخص کو متوجہ کرتے ہوئے پنجابی زبان میں فرمایا "تے اوکتھے ای "(کہ وہ کہاں ہے؟ ) مطلب یہ کہ نماز کا طریقہ تو تم نے سمجھا دیا لیکن اس مقصد کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے جس کیلئے نماز پڑھی جاتی ہے وہی تو اس عبادت کی اصل" روح ہے ۔ صا حبو! دعا مانگتے ہوئے انداز و اسلوب اور طور طریقوں پر توجہ نہ دیں بلکہ اپنی تمام تر توجہ "اجيب دعوة الداع اذا دعان"

پر مذکور کریں ۔ بے شک ہاتھ اس طرح پھلے ہوئے ہوں جیسے کوئی کاسہ گدائی پھیلائے ہوئے ہو یا اس طرح جڑے ہوئے ہوں جس طرح کوئی کسی کو انکی ذات کا واسطہ دے رہا ہو... باعث تخلیق

کائنات کا واسطہ دے رہا ہو (5) اشکوں کی برسات کا واسطہ دے رہا ہو مسلسل سکڑ رہا سمٹ رہا ہو جیسے کسی سے لپٹ رہا ہو چمٹ رہا ہو دعا مانگتے مانگتے یوں کھو جائے کہ گردوپیش سے بیگانہ ہوجائے روتے روتے بے حال ہو جا ئے گر یہ کرتے کرت نڈھال ہوجائے پیکر عجز و انکساری ہوجائے مجسمہ خشوع و خضوع ہوجائے یہاں تک کے دل سے نکلنے والی ہر دعا پر اثر ہوجائے غالبا ایسی ہی کیفیت والی دعا کیلئے کہا گیا ہے۔


دل سے جو نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

نہیں ہے طاقت پرواز مگر رکھتی ہے  


                    "دعا عبادت کا مغز ہے (حدیث نبوی)"


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے