*اقتباس*
*تیرا عِشق نَچایا کر کے تَھیا*
جنوری کی یخ بستہ رات میں جب درجہ حرارت لہو جمادینے کی دیوانگی میں رقص کرتا یہاں وہاں آوارگی کی طرح برس رہا تھا وہ گرم بستر چھوڑ کر درجہ حرارت کی آوارگی کو قرار بخشنے کے لیے گرم شال لپیٹ کر ٹیرس پر چلی آئی. جہاں اپنی آمد کے مسلسل دوگھنٹے گزار دینے کے باوجود وہ ہاتھ میں پکڑی کتاب پر سر جھکاۓ اطراف سے بےنیاز بیٹھی تھی....
اس کی توجہ کے ارتکاز کو فِدیان کی آمد نے توڑا تھا.
جانتی تھی وہ گہری نیند میں بھی پہلو میں اس کی کمی کو محسوس کرے گا تو جاگ کر پاس چلا آۓ گا.اور وہ آگیا تھا.ناصرف خود آیا تھا بلکہ اپنے ساتھ اس کے لیے بھی گرم بھاپ اڑاتی کافی کا کپ بنا لایا تھا
"رات سونے کے لیے ہوتی ہے مہرو..." فِدیان نے اس کے حصے کی کافی کے کپ کو سامنے رکھی میز پر اس کے سامنے رکھتے ہوۓ کہا
"کتاب کو مکمل کرنے کی چاہ نیند لینے نہیں دے رہی تھی صاب___"اس نے بےچارگی سے کہا تو فِدیان نے اس کے برابر پڑی کرسی پر براجمان ہوتے ہوۓ گھور کر اس کی طرف دیکھا اور جب آرام دہ انداز میں نششت لے چکا تو کہنے لگا
"کتاب اندر کمرے میں بھی پڑھی جا سکتی تھی ناں؟ رات کے اس پہر اس قدر ٹھنڈ میں بیٹھ کر کتاب پڑھنا کیا اس کتاب میں لکھا ہوا ہے؟ اس بار اس کے انداز میں خفگی نمایاں تھی.مہرو نے محسوس کی اور مسکرا دی.
وہ اس کے لیے یہاں آیا تھا اسے اب کتاب بند کر کے اسے سن لینا چاہیے تھا..اس لیے اس نے بک مارک صفحے کے درمیان رکھتے ہوۓ کتاب کو بند کر کے گود میں رکھا اور پوری توجہ سے اس کی طرف متوجہ ہوگئی جو ہاتھ میں پکڑے کپ سے کافی کے گھونٹ بھرتے ہوۓ سامنے کی طرف دیکھ رہا تھا...
اس کے انداز میں خفگی کا واضح اظہار تھا.مہرو کی مسکراہٹ گہری ہوگئی
وہ جانتی تھی اب اسے کیا کرنا ہے.اس لیے بولے بنا ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ سے کافی کا کپ لیا. اور اپنے کپ کی طرف دیکھے بنا اس کے کپ سے اپنی پسندیدہ چاکلیٹ فلیور کی کافی کو گھونٹ بھر کر حلق میں اتارنے کا آغاز کرتے ہوۓ جنوری کی رات کو مزید نم کردینے کو برستی بارش کے کِن مِن برستے قطروں کی طرف دیکھنے لگی___
اب اسے نہیں بولنا تھا.
جس کا صاف مطلب تھا اب فِدیان کو اپنی توجہ اس کی جانب مبذول کردینی چاہیے.
اور اب فِدیان کے لیے ایسا کرنا ہی ضروری تھا....
اس لیے اس نے پوری توجہ سے متوجہ ہو کر اس کی طرف دیکھا تو ساری کی ساری توجہ کافی کے کپ کے گرد لپٹے اس کے ہاتھوں پر ٹھہر گئی
اس کے ہاتھ اس کی سب سے بڑی کمزوری بن چکے ہوۓ تھے. ظالم مصومیت سے مقابل لاتی تھی اور مقابل لا کر موم کردیا کرتی تھی.
اس بار بھی وہ موم بن کر پگھلنے لگا تو دل کو آنکھوں میں سجا کر اس کی طرف مڑا اس کے ہاتھ سے کپ لے کر میز پر رکھا اور اس کے نرم سپید ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی گلابی ہتھیلی پر بکھری لکیروں کو دیکھتے ہوۓ کہنے لگا
"جانتی ہو مہرو! میں جب جب تمہارے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھتا ہوں شدت سے اس لکیر کو چھونے کی خواہش کرتا ہوں جس نے "تم اور میں" کی لکیر کو جوڑ کر ہمیں "ہم" کی تعبیر سے نوازا...... جس نے تمہیں مجھ سے ملایا"
اس کے لفظوں کی خواہش کی شدت اسکے چہرے سے عیاں تھی..مہرو نے دیکھا محسوس کیا اور اپنے ہاتھ کو اس کے ہاتھ کی گرفت سے نکالتے ہوۓ بہت سنجیدگی سے کہا
"آپ کو ایسا لگتا ہے ہاتھ کی لکیریں ملن کی وجہ ہوتی ہیں؟" اس نے پوچھا تو فِدیان نےاقرار میں سر ہلاتے ہوۓ کہا
"ہاں تو اور کیا... انسان کا نصیب اس کے ہاتھ کی لکیروں ہی میں توکنندا ہواکرتا ہے"
اس کےمعصوم سے جواب نے مہرو کے لبوں پر بےساختہ مسکراہٹ بکھیری تھی.اس لیے اس نے مسکراتے ہوۓ اسی کے انداز میں اس سے سوال کیا تھا
"اچھاااااا تو پھر جن کے ہاتھ نہیں ہوتے ان کا تو پھر نصیب بھی نہیں ہوتا ہو گا..بنا نصیب کے پھر جی کیسے رہا ہوتا ہے بنا ہاتھ والا انسان؟؟"
اس کے سوال کی لوجک نے فِدیان کو لاجواب کیا تو وہ منہ بسور کر اس کی طرف سے نظر ہٹا گیا
یعنی کہ اب فِدیان کو نہیں بولنا تھا....
اس کی ہر ادا سے واقف ہوجانے والی مہرو اس کو اس طرح لاجواب ہو کر بچوں کی طرح منہ بسورتے دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس دی تھی.. بہت دیر تک وہ یونہی اونچی آواز سے ہنستی رہی.جب ہنس چکی تو گود میں پڑی کتاب کو فِدیان کے کندھے پرہلکے سے مار کر کہنے لگی
"آپ کی طرح اگر میں بھی ہاتھوں کی لکیروں پر یقین کیے رہتی تو آپ کو کبھی پا ہی ناں سکتی... بلکہ یوں کہہ لیتی ہوں ہاتھ کی لکیروں کے چکر میں,میں آپ کو پانے سے پہلے ہی کھو چکی ہوتی"
اس نے ایک پل کے لیے رک کر اس کی طرف دیکھا جو اب حیرانی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا
"یہ ہاتھ کی لکیریں تو ماٹی برابر بھی اوقات نہیں رکھتی ہوتی فِدیان, ذرا سی حالات کی دھول ان پر پڑے یہ اپنی ہیبت بدل کر بےوفائی کا ارتکاب کروفر سے ادا کر کے خود پر یقین کرنے والوں کو پٹخ دیا کرتی ہے, میں بھی پٹخ دی گئی تھی اور جب پٹخ دی گئی تب میں نے جانا.... ہاتھ کی لکیروں میں نصیب نہیں ہوا کرتا.... ملن کی لکیر تو بالکل بھی ہاتھ میں نہیں ہوا کرتی. کیونکہ وجود کے ہاتھ بننے سے پہلے ہی روح کا ملن آسمان پر ہو چکا ہوتا ہے.وہ آسمانی ملن ہی ملن کا نصیب اور تقدیر ہوا کرتی ہے!"
مسلسل بولتے ہوۓ وہ ایک پل کے لیے رکی پوری توجہ سے اپنی بات سنتے فِدیان کی طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہنے لگی
"آپ نے کبھی سوچا ہے میں ہمیشہ اماں,بابا کو میری روح کا دل کہنے والی آپ کو میری روح کیوں کہا کرتی ہوں؟"
کیونکہ___میں صرف اور صرف آپ کی وجہ سے وجود میں ہوں.ہماری ارواحوں کا ملن ہونے کے بعد جب آپ کے وجود کی پیدائش کی گئی تو آپ کے وجود کی تکمیل کے لیے آپ کے وجود کی مٹی سے میری روح کو وجود دے کر آپ کے لیے مجھے زمین پر اتارا گیا.. امی بابا تو وسیلہ بنے مجھے دنیا میں لانے کا مگر دنیا میں میرے وجود کی وجہ صرف اور صرف آپ ہیں!
آپ میرا حقیقی اصل ہیں اسی نسبت سے آپ میری روح ہیں!
اور جن کی روح مل چکی ہو ان کے وجود کا ملنا بھی تو ضروری ہوا کرتا ہے پھر چاہے ہاتھ اور ہاتھ کی لکیر ہو یا ناں ہو!"
وہ اس کے لیے سارے جہان کی نرمی آنکھوں میں سمو کر موتی جیسے قیمتی لفظ بولتی اسے واقعی آسمان سے اتری ایسی پاکیزہ روح محسوس ہورہی تھی.جس پر اٹھی اس کی نظر دیوانہ وار کبھی اس کے ہلتے گلابی لبوں پر اٹکتی,تو کبھی اس کی تیکھی ناک میں غرور سے چمکتی نوز پن پر اٹکنے لگتی تو کبھی کندھے سے ہو کر اس کی گود میں پڑی اس کے کالے گھنے بالوں کی چوٹی پر اٹک جاتی....
وہ اٹک اٹک کر بھٹک رہا تھا جب ایک دم اس کی نظر اس کی سیدھی اور سادا مانگ نے اپنی طرف کھینچی تو وہ بےاختیار اپنی جگہ سے اٹھا اور چند قدم چل کر ٹیرس کی گرل کے قریب پہنچ کر ہاتھ بڑھا کر برستی بوندوں کو اپنی ہیتھیلی میں جمع کرنے لگا.....
جب جمع کر چکا تو پلٹ کر بھیگا بھیگا سا اس کے پاس آیا.....اور مقابل رک کر ہتیھلی کی اوک میں جمع فجر کی صبح میں نہائی بوندوں کے شفاف پانی کو شہادت کی انگلی سے اس کی مانگ میں بھر کر گویا اپنے عشق کو اس کی روح میں اتارنے لگا......!
وہ مانگ کی گرمی میں بوندوں کی ٹھنڈک کے ساتھ اس کے لمس کی حدت کو محسوس کرتی آنکھیں بند کر کے بھیگی آواز میں کہنے لگی....
"میں ہاتھ کی لکیروں پر یقین کرنے کے گناہ کی سزا میں بس آپ کو کھو دینے والے تھی فِدیان مگر پھر میں نے سورت مریم کے ورد کے انعام میں بلآخر آپ کو پا ہی لیا...."
وہ کہہ رہی تھی کہہ کر رو رہی تھی
فِدیان نے اس کے لہجے میں اس پر گزر چکے وقت کے کرب کو محسوس کیا تھا اس لیے قرار دینے کو گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھتے ہوۓ اس کے ہاتھوں کو پھر سے اپنے ہاتھوں میں لے لیا...گویا کہ وہ ایسا کر کے اس کو اپنے ساتھ کا یقین تھما کر دلاسہ دینا چاہ رہا تھا
رات سر جھکا کر گزر چکی تھی فجر کے نور میں نہائی صبح کی کرنیں مسکرا کر فِدیان کے دل کی طرح اعتراف کررہی تھیں
"تقدیر اور نصیب ہاتھوں کی لکیروں کے محتاج نہیں ہواکرتے... تقدیر اور نصیب صرف اور صرف کاتبِ_تقدیر کے قلم کی مرضی کے تابع ہوا کرتے ہیں....!

0 تبصرے