![]() |
| Sochen |
*اقتباس*
*سوچیں*
میں جو سوچتی ہوں اگر وہ تحریر کردوں تو مجھے یقین ہے لفظوں کی چیخیں نکل جاۓ گیں
شاید اسی لیے لفظ اب مجھ سےخفا محسوس ہونے لگے ہیں
یا پھر شاید روٹھ کر اپنا راستہ بدل چکے ہیں
اس کے باوجود میں لفظوں سےپھر سے یاری کرنا چاہتی ہوں
وہ یاری جن میں
میری ہنسی گونجتی تھی
میری شرارتیں مسکراتی تھیں
اور جن میں میری نیند کی میٹھی کھلکھلاہٹیں ہوا کرتی تھی
میں لکھنا چاہتی ہوں
پھر سے لفظوں کی کھلکھلاتی مسکراہٹ محسوس کرنا چاہتی ہوں
محسوس کرنا چاہتی ہوں ان محسوسات کو جو سرد ہو کر مجھ سے کہیں کھو گئے ہیں
میں ڈھونڈ لینا چاہتی اس کو جو مجھ میں ایک میں ہوا کرتی تھی
مگر شاید
مجھ سے میرے لفظ روٹھ گئے ہیں
اس لیے یاری کی چاہ میں اگر کچھ لکھنے کی کوشش بھی کروں تو لفظ روتے ہیں
کرلاتے ہیں
بین کرتے ہیں
نوحہ زدہ ہو کر سینہ کوبی کرتے ہیں
تب مجھے جس میں کی تلاش ہوتی ہے
وہ تھک کر قلم رکھ دیتی ہے
مگر قلم رکھتے وقت تھکن کے اس احساس کو یہ جتا دیتی ہوں
آج تمہارا وقت ہے
اس لیے جتنا جی چاہے اتنا سر پر سوار ہو کر خوار کر لو
مگر
جب میرا وقت آۓ گا
اور
میں یاد بن جاؤں گی
تب____
بہت یاد آؤں گی


0 تبصرے