Subscribe Us

Mehrum

*اقتباس*  *محرم*  پورے چاند کی دودھیا رات میں دو محرم مقابل تھے... پہلی ملاقات  اور پہلی بات دونوں ہی کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا مگر ادائیگی کے لیے لفظ آواز کی گرفت میں نہیں آ پا رہے تھے ...  وقت نے خاموشی سے سرکتے ہوۓ  کمرے میں موجود سکوت کے طائر کو آنکھ نکال کر دیکھا تو سکوت کے طائر نے بوکھلا کر اپنے پروں کو پھڑپھڑا کر دو میں سے اس ایک کی طرف دیکھا جو اپنی گھنیری پلکوں والی سیاہ آنکھیں اٹھاۓ اب مقابل کو دیکھ کر زیرلب مسکرا رہی تھی... وہ مسکرا رہی تھی____ سکوت کے طائر نے طمانت سے پروں کو سمیٹ کر سر نہیوڑ لیا.کیونکہ اب مسکراتے لبوں نے نرمی سے جنبش کر کے لفظوں کو آواز کی صورت ادا کر کے بولنے کا آغاز کرتے ہوۓ کہنا شروع کیا تھا.... "آپ نے کبھی سوچا ہے جوڑے تو وہاں آسمانوں میں بنادیے جاتے ہیں.پھر آپ,میں اور ہم سب کیوں خود کو کسی تیسرے کے ساتھ جوڑ لینے کے جتن میں خوار ہوتے پھرتے ہیں____؟؟؟" اس کا انداز بہت معصومانہ تھا مگر اس کا سوال___ سن کر وہ بری طرح چونکا تھا. اور وہ جو اپنی سیاہ آنکھیں ٹکاۓ ہی اسی پرتھی.اس کی چونک کو محسوس کر کے بہت گہرائی سے مسکرا دی تھی آپ کو کیا لگتا ہے مجھے بے خبر رکھا گیا ہوگا؟ میں وہ جو جب چاہے اپنے رب سے ملاقات کرلیا کرتی ہے... کیا اس نے مجھ ساتھ ملاقات میں مجھے نہیں بتا دیا ہوگا کہ وہ کب کہاں کس طرح آپ کو میرے لیے آزمائش کی بھٹی میں پکا کر کندن کررہا ہے؟؟؟؟ صرف اس کے لب ہی نہیں اس بار اس کے لفظ بھی مسکرا رہے تھے اور وہ حیرت کے زلزلوں کی زد میں مسلسل آنکھیں پھیلاۓ اس کی طرف دیکھے جارہا تھا جس نے ہاتھ بڑھا کر ہولے سے اس کی آنکھوں کو چھوتے ہوۓ بات کا رخ بدل کر پھر کہنا شروع کیا تھا  آپکو معلوم ہے میں جب جب کاجل کی سلائی کاجل سے بھر کر اپنی آنکھ میں اتارا کرتی تھی آپکی شبیہ میری پلکوں کا سنگھار بن جایا کرتی تھی. میرے لانبے بالوں کی چٹیاں جب کمر سے سرک کر میرے کندھے پر جھولا کرتی تھی آپ کی یاد کی پینگ اس کو مزید لہرادیا کرتی تھی اور آپکی یاد جب میری ہارٹ بیٹ کو ڈسٹرب کیا کرتی تھی تو میری چنری آپ  کے خیال کی طرح مجھے خود میں سمیٹ لیا کرتی تھی. اور جانتے ہیں جب کبھی میں آئینے کے مقابل ہواکرتی تھی  آئینہ ہمیشہ آپ بن کر مجھے ایسے نظروں میں سمونے کی کوشش کیا کرتا تھا کہ میں شرم سے لال ہوجایا کرتی تھی وہ بہت توجہ سے سن کر کچھ سمجھنے کی کوشش کررہا تھا مگر اس نے ایک بار پھر بات ادھوری چھوڑ کر اس کو ایک بار پھر اپنے سوالوں کے مقابل کھینچا تھا کیا آپکو معلوم ہے میں نے جب جب آپ (میرے محرم) کی چاہ کی میں تب تب اللہ کو بولا کہ مجھے صرف وہ چاہیے جو صرف میرا ہو تو پھر آپ کو کیا لگتا ہے اللہ نے کیوں میری کاجل والی پلکوں کی شبیہ والے کی آنکھوں کو کسی اور کی جانب متوجہ کردیا؟  میری دل کی دھڑکن کو ڈسٹرب کردینے والے کے دل کو کسی اور کی چاہ میں مبتلا کر کے کیوں رلا دیا؟ کیوں "صرف میرے کو" کے لیے کسی تیسرے  کو اہم کیا؟؟؟ اس نے اس کی پھیلی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیے تھے.مگر پھر جواب لینے کے لیے اس کے مقابل رکنے کی بجاۓ ذرا سا پلٹ کر مڑی اور دھیمی رفتار سے قدم اٹھاتی سامنے پڑے صوفے پر تمکنت سے بیٹھ گئی. جبکہ اس کے سوالوں نے مقابل کھڑے اس کی سانس تک کو روک کر اسے یہ جتا دیا تھا کہ وہ اس کے بتانے سے پہلے ہی اس کے ماضی کے متعلق وہ سب جانتی ہے جو وہ اس کو بتانے سے ہچکچا رہا تھا....مگر اسے اس سب کا علم کیسے ہوا ؟ یہ جاننے کی چاہ میں وہ نظریں اس پر جماۓ سماعت کو اس کی طرف متوجہ کیے کسی تابع مرید کی طرح بےخودی میں قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا اور اس سے انچ بھر کے فاصلے پر بیٹھ گیا وہ کہہ رہی تھی  آپ کو معلوم ہے اللہ میری ضد پوری کرتا ہے.وہ میرے لاڈ اٹھاتا ہے.اس کے لیے میں بہت خاص ہوں.تو ایسے میں عام سے آپ کو وہ مجھ خاص کیسے عطاکردیتے؟ سر جھکا کر بولتے بولتے اس نے ایک دم سے اپنی نم آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور اس کو اس کی روح سمیت اس بری طرح جھنجھوڑا کہ وہ بےساختہ بول پڑا مگر ہماری روح کاملن تو خدا نے آسمان پر کردیا تھا ناں؟؟؟ "ہاں____" اس کے سر کی ہلکی سی جنبش نے اس کے جھمکوں ساتھ شرارت کر کے اس کی توجہ بھٹکانی چاہی تھی مگر اس کے لفظوں نے ایک بار پھر سماعت سمیت اس کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا "ہماری روحیں تو خاص تھیں مگر آپ کے وجود کی مٹی کی ساری خاصیت مجھے دے کر مجھے خاص کر کے آپکو عام کردیا گیا___اب خاص کو خاص سے ملانے کے لیے اللہ نے پہلے عام کو خاص کرنا تھا اس لیے عام سے آپکو آزمائش کی بھٹی میں ڈال کر کسی تیسرے کے خیال میں مبتلا کردیا گیا آپ نے کسی کو دیکھا  کسی کی چاہ کی دل میں کسی کو اتار لینا چاہا کسی کو زندگی کا حصہ بنا لیناچاہا مگر..... کیا ہوا؟؟ آپ کی زندگی کو ویران کردیا گیا آپ کی چاہ آپ کے دل سمیت اجاڑ دی گئی آپ کو رلا کر اداس کردیا گیا ایسا ہی ہوا ناں؟؟ اس نے بولتے بولتے رک کر پھر سے اس انداز میں سوال کیا کہ وہ ایک بار پھر بےساختہ اقرار میں سر ہلا گیا.پھر خیال آنے پر ایک دم کھسیایاتو وہ دھیمے سروں سے ہنستی ہوئی کہنےلگی ایسا ہی ہونا تھا....!!! آپ کی زندگی کو مجھ سے آباد ہونا تھا اس لیے آپ کی آنکھ کو رلا کر میرے لیے پاک کردیا گیا آپ کے دل کی خیانت کو ویرانی کی نذر کر کے میرے لیے ستھرا کردیا گیا آپ کی چاہ کی ہر طلب کو سسکا کر میری آمد کا طلبگار بنا دیا گیا خود میں جھانک کر بتائیں کسی سے محبت کر لینے کے بعد اس کے ناملنے کے بعد کے ہر لمحے میں مجھ (محرم) کی آمد کی طلب بہت شدت سے ہوئی ناں؟؟  وہ بات کے دوران سوال اس انداز میں کیا کرتی تھی کہ جواب میں اس کا سر اپنے آپ ہی ہل جایا کرتا تھا.اور وہ اسے یوں سر ہلاتے دیکھ  ایسے مسکرا دیا کرتی تھی جیسے پہلے سے اس کا جواب جانتی ہو. وہ جانتی ہی تھی.اس لیے تو یقین سے کہہ رہی تھی "ہونا بھی ایسے ہی تھا.کیونکہ میرا کرنے کے لیے اللہ کو آپ کو خاص کرنا مقصود تھا اس لیے اس نے آپ کو کسی کی عارضی محبت میں مبتلا کر کے آزمائش کی بھٹی میں پکا کر کندن کرنا تھا...اور پھر مراحل سے گزار کر آپ کو کندن کردیا گیا..." اس نے لبوں کو روک کر بہت نرم نظر سے لمحہ بھر کے لیے اس کی طرف دیکھا.پھر کہا "طویل سسکتے انتظار کے بعد جب محرم کو محرم سے ملایا جاتا ہے تو اللہ یہ بتارہا ہوتا ہے کہ تم دونوں کی ارواحیں میرے لیے خاص تھیں اس لیے روح سمیت وجود کو خاصیت دےکر ملن کی عطائی سے نواز دیا ہے"  اب آپ پر فرض ہےکہ آپ اللہ کی سن کر سمجھیں اور جان لیں کہ آپ کا ماضی ہمارے ملن کی وجوہات میں سے بس ایک وجہ تھا.ہم مل گۓ وجہ ختم ہوگئی اس لیے اس وجہ کو ملامت کی طرح خود پر سوار کر کے ہماری زندگی کی خوبصورتی میں کانٹا مت بنائیں.." اس کے لفظوں نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی تھی جبکہ آنکھوں کی نمی دو موتیوں کی صورت پلکوں کی دہلیز پر لڑکھی تھی وہ رورہی تھی___؟؟؟ ہاں وہ رو رہی تھی مگر کیوں؟؟؟  اس نے پوچھنے کو لبوں کو حرکت دینی چاہی مگر اس سے پہلے کہ وہ سوال کرتا وہ ضبط سے لب بھینچے اس کے پاس سےاٹھ کر دور ہوئی اور پلٹ کر کمرے سے نکل گئی
Mehrum



*اقتباس*


*محرم*


پورے چاند کی دودھیا رات میں دو محرم مقابل تھے...

پہلی ملاقات 

اور پہلی بات

دونوں ہی کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا مگر ادائیگی کے لیے لفظ آواز کی گرفت میں نہیں آ پا رہے تھے ... 

وقت نے خاموشی سے سرکتے ہوۓ کمرے میں موجود سکوت کے طائر کو آنکھ نکال کر دیکھا تو سکوت کے طائر نے بوکھلا کر اپنے پروں کو پھڑپھڑا کر دو میں سے اس ایک کی طرف دیکھا جو اپنی گھنیری پلکوں والی سیاہ آنکھیں اٹھاۓ اب مقابل کو دیکھ کر زیرلب مسکرا رہی تھی...

وہ مسکرا رہی تھی____

سکوت کے طائر نے طمانت سے پروں کو سمیٹ کر سر نہیوڑ لیا.کیونکہ اب مسکراتے لبوں نے نرمی سے جنبش کر کے لفظوں کو آواز کی صورت ادا کر کے بولنے کا آغاز کرتے ہوۓ کہنا شروع کیا تھا....

"آپ نے کبھی سوچا ہے جوڑے تو وہاں آسمانوں میں بنادیے جاتے ہیں.پھر آپ,میں اور ہم سب کیوں خود کو کسی تیسرے کے ساتھ جوڑ لینے کے جتن میں خوار ہوتے پھرتے ہیں____؟؟؟"

اس کا انداز بہت معصومانہ تھا مگر اس کا سوال___ سن کر وہ بری طرح چونکا تھا.

اور وہ جو اپنی سیاہ آنکھیں ٹکاۓ ہی اسی پرتھی.اس کی چونک کو محسوس کر کے بہت گہرائی سے مسکرا دی تھی

آپ کو کیا لگتا ہے مجھے بے خبر رکھا گیا ہوگا؟ میں وہ جو جب چاہے اپنے رب سے ملاقات کرلیا کرتی ہے...

کیا اس نے مجھ ساتھ ملاقات میں مجھے نہیں بتا دیا ہوگا کہ وہ کب کہاں کس طرح آپ کو میرے لیے آزمائش کی بھٹی میں پکا کر کندن کررہا ہے؟؟؟؟

صرف اس کے لب ہی نہیں اس بار اس کے لفظ بھی مسکرا رہے تھے

اور وہ حیرت کے زلزلوں کی زد میں مسلسل آنکھیں پھیلاۓ اس کی طرف دیکھے جارہا تھا جس نے ہاتھ بڑھا کر ہولے سے اس کی آنکھوں کو چھوتے ہوۓ بات کا رخ بدل کر پھر کہنا شروع کیا تھا


آپکو معلوم ہے میں جب جب کاجل کی سلائی کاجل سے بھر کر اپنی آنکھ میں اتارا کرتی تھی آپکی شبیہ میری پلکوں کا سنگھار بن جایا کرتی تھی.

میرے لانبے بالوں کی چٹیاں جب کمر سے سرک کر میرے کندھے پر جھولا کرتی تھی آپ کی یاد کی پینگ اس کو مزید لہرادیا کرتی تھی

اور آپکی یاد جب میری ہارٹ بیٹ کو ڈسٹرب کیا کرتی تھی تو میری چنری آپ کے خیال کی طرح مجھے خود میں سمیٹ لیا کرتی تھی.

اور جانتے ہیں جب کبھی میں آئینے کے مقابل ہواکرتی تھی آئینہ ہمیشہ آپ بن کر مجھے ایسے نظروں میں سمونے کی کوشش کیا کرتا تھا کہ میں شرم سے لال ہوجایا کرتی تھی

وہ بہت توجہ سے سن کر کچھ سمجھنے کی کوشش کررہا تھا مگر اس نے ایک بار پھر بات ادھوری چھوڑ کر اس کو ایک بار پھر اپنے سوالوں کے مقابل کھینچا تھا

کیا آپکو معلوم ہے میں نے جب جب آپ (میرے محرم) کی چاہ کی میں تب تب اللہ کو بولا کہ مجھے صرف وہ چاہیے جو صرف میرا ہو

تو پھر آپ کو کیا لگتا ہے اللہ نے کیوں میری کاجل والی پلکوں کی شبیہ والے کی آنکھوں کو کسی اور کی جانب متوجہ کردیا؟ 

میری دل کی دھڑکن کو ڈسٹرب کردینے والے کے دل کو کسی اور کی چاہ میں مبتلا کر کے کیوں رلا دیا؟ کیوں "صرف میرے کو" کے لیے کسی تیسرے کو اہم کیا؟؟؟

اس نے اس کی پھیلی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیے تھے.مگر پھر جواب لینے کے لیے اس کے مقابل رکنے کی بجاۓ ذرا سا پلٹ کر مڑی اور دھیمی رفتار سے قدم اٹھاتی سامنے پڑے صوفے پر تمکنت سے بیٹھ گئی.

جبکہ اس کے سوالوں نے مقابل کھڑے اس کی سانس تک کو روک کر اسے یہ جتا دیا تھا کہ وہ اس کے بتانے سے پہلے ہی اس کے ماضی کے متعلق وہ سب جانتی ہے جو وہ اس کو بتانے سے ہچکچا رہا تھا....مگر اسے اس سب کا علم کیسے ہوا ؟ یہ جاننے کی چاہ میں وہ نظریں اس پر جماۓ سماعت کو اس کی طرف متوجہ کیے کسی تابع مرید کی طرح بےخودی میں قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا اور اس سے انچ بھر کے فاصلے پر بیٹھ گیا

وہ کہہ رہی تھی 

آپ کو معلوم ہے اللہ میری ضد پوری کرتا ہے.وہ میرے لاڈ اٹھاتا ہے.اس کے لیے میں بہت خاص ہوں.تو ایسے میں عام سے آپ کو وہ مجھ خاص کیسے عطاکردیتے؟

سر جھکا کر بولتے بولتے اس نے ایک دم سے اپنی نم آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور اس کو اس کی روح سمیت اس بری طرح جھنجھوڑا کہ وہ بےساختہ بول پڑا

مگر ہماری روح کاملن تو خدا نے آسمان پر کردیا تھا ناں؟؟؟

"ہاں____" اس کے سر کی ہلکی سی جنبش نے اس کے جھمکوں ساتھ شرارت کر کے اس کی توجہ بھٹکانی چاہی تھی مگر اس کے لفظوں نے ایک بار پھر سماعت سمیت اس کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا

"ہماری روحیں تو خاص تھیں مگر آپ کے وجود کی مٹی کی ساری خاصیت مجھے دے کر مجھے خاص کر کے آپکو عام کردیا گیا___اب خاص کو خاص سے ملانے کے لیے اللہ نے پہلے عام کو خاص کرنا تھا اس لیے عام سے آپکو آزمائش کی بھٹی میں ڈال کر کسی تیسرے کے خیال میں مبتلا کردیا گیا

آپ نے کسی کو دیکھا

 کسی کی چاہ کی

دل میں کسی کو اتار لینا چاہا

کسی کو زندگی کا حصہ بنا لیناچاہا

مگر.....

کیا ہوا؟؟

آپ کی زندگی کو ویران کردیا گیا

آپ کی چاہ آپ کے دل سمیت اجاڑ دی گئی

آپ کو رلا کر اداس کردیا گیا

ایسا ہی ہوا ناں؟؟

اس نے بولتے بولتے رک کر پھر سے اس انداز میں سوال کیا کہ وہ ایک بار پھر بےساختہ اقرار میں سر ہلا گیا.پھر خیال آنے پر ایک دم کھسیایاتو وہ دھیمے سروں سے ہنستی ہوئی کہنےلگی

ایسا ہی ہونا تھا....!!!

آپ کی زندگی کو مجھ سے آباد ہونا تھا اس لیے

آپ کی آنکھ کو رلا کر میرے لیے پاک کردیا گیا

آپ کے دل کی خیانت کو ویرانی کی نذر کر کے میرے لیے ستھرا کردیا گیا

آپ کی چاہ کی ہر طلب کو سسکا کر میری آمد کا طلبگار بنا دیا گیا

خود میں جھانک کر بتائیں کسی سے محبت کر لینے کے بعد اس کے ناملنے کے بعد کے ہر لمحے میں مجھ (محرم) کی آمد کی طلب بہت شدت سے ہوئی ناں؟؟ 

وہ بات کے دوران سوال اس انداز میں کیا کرتی تھی کہ جواب میں اس کا سر اپنے آپ ہی ہل جایا کرتا تھا.اور وہ اسے یوں سر ہلاتے دیکھ ایسے مسکرا دیا کرتی تھی جیسے پہلے سے اس کا جواب جانتی ہو.

وہ جانتی ہی تھی.اس لیے تو یقین سے کہہ رہی تھی

"ہونا بھی ایسے ہی تھا.کیونکہ میرا کرنے کے لیے اللہ کو آپ کو خاص کرنا مقصود تھا اس لیے اس نے آپ کو کسی کی عارضی محبت میں مبتلا کر کے آزمائش کی بھٹی میں پکا کر کندن کرنا تھا...اور پھر مراحل سے گزار کر آپ کو کندن کردیا گیا..."

اس نے لبوں کو روک کر بہت نرم نظر سے لمحہ بھر کے لیے اس کی طرف دیکھا.پھر کہا

"طویل سسکتے انتظار کے بعد جب محرم کو محرم سے ملایا جاتا ہے تو اللہ یہ بتارہا ہوتا ہے کہ تم دونوں کی ارواحیں میرے لیے خاص تھیں اس لیے روح سمیت وجود کو خاصیت دےکر ملن کی عطائی سے نواز دیا ہے"

 اب آپ پر فرض ہےکہ آپ اللہ کی سن کر سمجھیں اور جان لیں کہ آپ کا ماضی ہمارے ملن کی وجوہات میں سے بس ایک وجہ تھا.ہم مل گۓ وجہ ختم ہوگئی اس لیے اس وجہ کو ملامت کی طرح خود پر سوار کر کے ہماری زندگی کی خوبصورتی میں کانٹا مت بنائیں.."

اس کے لفظوں نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی تھی جبکہ آنکھوں کی نمی دو موتیوں کی صورت پلکوں کی دہلیز پر لڑکھی تھی

وہ رورہی تھی___؟؟؟

ہاں وہ رو رہی تھی

مگر کیوں؟؟؟ 

اس نے پوچھنے کو لبوں کو حرکت دینی چاہی مگر اس سے پہلے کہ وہ سوال کرتا وہ ضبط سے لب بھینچے اس کے پاس سےاٹھ کر دور ہوئی اور پلٹ کر کمرے سے نکل گئی 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے