Subscribe Us

Tum Mujh Say Muhabbat Mat Kro


تُم مُجھ سے مُحبت مت کرو, میں شاید جلد مَر جاؤں گی  بالفرض اگر میں مر گئی تو  سب سے زیادہ تُمہیں یاد آؤں گی وہ تُمہارا لیپ ٹاپ,ڈائری,موبائل یا کوئی صفحہ جو اس وقت تُمہیں میسر ہو اس کے کسی کونے پر لکھ کر محفوظ کر لو.  میری یاد تُمہارے اس وقت کام آۓ گی!  جب  چاۓ کا کپ پکڑتے ہوۓ تمہارے ہاتھ کی لرزش گرم چاۓ سے تُمہارے ہاتھ کو جَلا کر روح کو خاکستر کر دینے کے درپے ہوگی جب روئی سے بھیگے بادل آب کو ترستی زمین کو سیراب کرنے کے لیے بارش کی صورت برس کر تُمہاری تشنگی کو نئے سرے سے جگا کر تُمہیں " اَلدید " پکارنے پر مجبور کردے گی جب سورج کے چڑھتے جوبن سے ڈھل جاتے وقت تک کے سارے پل تُمہارے احساسات کو جُون کی سی گرمی کی مانند بُھون رہے ہونگے جب پُورے دِنوں کا چَاند اِٹھلا کر تاروں کی جُھرمٹ میں نکل کر تُمہیں تیکھی نظر سے دیکھ کر "بدنصیب" پکارتا محسوس ہورہا گا جب سِگنل پر پھولوں کے زیور بیچتا بچہ تُمہیں تَرحم بھری نِگاہوں سے دیکھ کر اپنی سِمت بدل کر کسی دوسری طرف چل دے گا جب سوال کو اٹھے ہاتھ تُمہیں دیکھ کر استہزایہ انداز میں گِرا دیے جائیں گے جب  کُھلے آسمان تلے ٹوٹتا تارہ دیکھنے کی خواہش میں پوری  رات___تُم بےمُراد کھڑے رہ کر گزار دو گے جب ہر جَلتا دِیا تُمہاری وجہ سے بُجھ جاتا محسوس ہونے لگے گا جب درگاہوں سے مَنت کے دھاگے اتار کر پھینک دیے جائیں گے جب تمہارے انگن میں کِھلتا ہر پھول,پودہ تُمہارے ہاتھوں بویا جانے کی شرمندگی میں مَر جانے کی دُعا کرنے لگے گا جب تم کاجل,چوڑی,کنگن,پائل,بندیا,مہندی اور سرخ جوڑے کی طرف نظر کرنے کی خواہش میں خود کو نابینا محسوس کروں گے جب تم گفتگو کے دوران باتیں بھول جانے لگو گے اور آئینے میں خود کو دیکھ کر رو دینے لگو گے جب کتابیں تمہارے ہاتھ لگانے پر سسکنے لگی گی اور جب راستوں کی ویرانی تمہارے پیروں کو کُچل دینے جیسا تھکا دیں گی جب نیند تم پر سے اپنے مہربان پروں کا سایہ سمیٹ کر آسمان کی سمت پرواز کرجاۓ گی اور کمرے میں بھرا سگریٹ کا دھواں تُمہاری سانسیں اکھیڑ دینے لگے گا تب تُم محبت کے دَر سے دُھتکار شُدہ کو میری یاد , یاد آۓ گی!  فرح طاہر
Tum Mujh Say Muhabbat Mat kro


تُم مُجھ سے مُحبت مت کرو, میں شاید جلد مَر جاؤں گی

بالفرض
اگر میں مر گئی تو 
سب سے زیادہ تُمہیں یاد آؤں گی
وہ
تُمہارا لیپ ٹاپ,ڈائری,موبائل یا کوئی صفحہ جو اس وقت تُمہیں میسر ہو اس کے کسی کونے پر لکھ کر محفوظ کر لو.

میری یاد تُمہارے اس وقت کام آۓ گی!

جب 
چاۓ کا کپ پکڑتے ہوۓ تمہارے ہاتھ کی لرزش گرم چاۓ سے تُمہارے ہاتھ کو جَلا کر روح کو خاکستر کر دینے کے درپے ہوگی
جب
روئی سے بھیگے بادل آب کو ترستی زمین کو سیراب کرنے کے لیے بارش کی صورت برس کر تُمہاری تشنگی کو نئے سرے سے جگا کر تُمہیں " اَلدید " پکارنے پر مجبور کردے گی
جب
سورج کے چڑھتے جوبن سے ڈھل جاتے وقت تک کے سارے پل تُمہارے احساسات کو جُون کی سی گرمی کی مانند بُھون رہے ہونگے
جب
پُورے دِنوں کا چَاند اِٹھلا کر تاروں کی جُھرمٹ میں نکل کر تُمہیں تیکھی نظر سے دیکھ کر "بدنصیب" پکارتا محسوس ہورہا گا
جب
سِگنل پر پھولوں کے زیور بیچتا بچہ تُمہیں تَرحم بھری نِگاہوں سے دیکھ کر اپنی سِمت بدل کر کسی دوسری طرف چل دے گا
جب
سوال کو اٹھے ہاتھ تُمہیں دیکھ کر استہزایہ انداز میں گِرا دیے جائیں گے
جب
 کُھلے آسمان تلے ٹوٹتا تارہ دیکھنے کی خواہش میں پوری رات___تُم بےمُراد کھڑے رہ کر گزار دو گے
جب
ہر جَلتا دِیا تُمہاری وجہ سے بُجھ جاتا محسوس ہونے لگے گا
جب
درگاہوں سے مَنت کے دھاگے اتار کر پھینک دیے جائیں گے
جب
تمہارے انگن میں کِھلتا ہر پھول,پودہ تُمہارے ہاتھوں بویا جانے کی شرمندگی میں مَر جانے کی دُعا کرنے لگے گا
جب
تم کاجل,چوڑی,کنگن,پائل,بندیا,مہندی اور سرخ جوڑے کی طرف نظر کرنے کی خواہش میں خود کو نابینا محسوس کروں گے
جب
تم گفتگو کے دوران باتیں بھول جانے لگو گے
اور
آئینے میں خود کو دیکھ کر رو دینے لگو گے
جب
کتابیں تمہارے ہاتھ لگانے پر سسکنے لگی گی
اور
جب راستوں کی ویرانی تمہارے پیروں کو کُچل دینے جیسا تھکا دیں گی
جب
نیند تم پر سے اپنے مہربان پروں کا سایہ سمیٹ کر آسمان کی سمت پرواز کرجاۓ گی
اور
کمرے میں بھرا سگریٹ کا دھواں تُمہاری سانسیں اکھیڑ دینے لگے گا
تب
تُم محبت کے دَر سے دُھتکار شُدہ کو میری یاد , یاد آۓ گی!

فرح طاہر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے