Subscribe Us

Khawaab


*خواب*  کل شَب خَواب میں ایک خَواب دیکھا!  تَارے نے ٹوٹ کر مَن کی مُراد پالینے کو دعا کی طرف کھینچ لینے کی سعی میں سلگتی چنگاری اطراف میں بکھیری مگر ہاتھ پہلو میں گِرے رہے! کالی آندھی نے سبز پیڑ کو جڑ سے اُکھیڑ کر پتھریلی زمین پر پٹخ دیا بَقا کے نارنجی پھول یہاں وہاں بکھر کر ایڑیاں رگڑنے لگے!  نِیلے فلک کے شفاف کنارے خُون اگلنے لگے! نظر کے سامنے چَاند تھا ناں سُورج! دہکتی آنکھوں والا بدنما دیو ہیکل ہیولا اپنے نوکیلے ناخن والے ہاتھ پھیلاۓ دبوچ لینے کو میری جانب رُخ کیے ہوۓ تھا خوف نے دِل کو حَلق میں اُچھال کر نیند کو جَاگ تھما کر جھنجھوڑ دیا ہے! وجدان کی سراسیمگی حد سے سوا ہو کر سوال کر رہی ہے!   کیا اب خواب کی تعبیر کی تکمیل کے لیے  "مُجھے مَر جانا ہوگا؟"  زندگی پہلو میں کھڑی سسکنے لگی ہے لبوں کی مسکراہٹ میں نَمی بکھرنے لگی ہے! اور میں  اتنی جلدی کی میری موت کو یقین دلانے کی کوشش کررہی ہوں کہ اب ابھی میں تُمہارے لیے تھوڑا سا جی لینا چاہتی ہوں!  حیات کی درازی کے لیے میں تعبیر کی تکمیل کے مقابل وہ مخملی بکسا رکھ رہی ہوں جو ابھی ابھی میں نے تُمہارے لیے سجانا شروع کیا ہے!  دو حصوں میں بَٹا تُمہارے واسطے سجایا مخملی بکسا! جس کے ایک حصے میں,میں نے تُم سے اکثر خفا ہوجاتے میرے دل کی شکایات کو چٹھی کی صورت بھرنا شروع کردیا ہے. اور دوسرے حصے کو تُم سے میری محبت کے دلفریب رنگوں سے رنگنا کا آغاز کردیا ہے!  "تُم پر فرض ہے اب تُم مُجھ سے عِشق جیسا کچھ کرو"  تُم سے جُڑی نِسبت فِضا میں عِطریات کی سی مانند پھیل کر دِن کے اُجالے کی انگلی پکڑے دروازے پر دستک دے رہی ہے میں نے کمرے کو اجالے سے بھر جانے کے واسطے سبھی کھڑیاں,دروازے کھول دیے ہیں!  سوچوں میں اُترے تُمہارے خیال کی بدولت بالوں میں بکھرتی سفیدی کو چنبیلی کی مانند چُٹیاں میں گوندھ لیا ہے.  "تُم بھی اب اپنے آنگن میں گلاب کی آبیاری کر لو"  جینے کی آرزو کی درازی کے لیے اپنا کاندھا پیش کر دو! بادلوں کی سیڑھی پھلانگ کر فلک سے چاند لے آؤ! مُٹھی بھر تاروں سے مانگ سجا دو !  جُگنوؤں کی ٹمٹماہٹ کو چُٹکی میں بھر کرآنکھوں میں کاجل کی مانند اُتار دو! اَن کہی کو بِن کہے سُن لینے لگو! جینے کی وجہ بنے رہنے کی کوشش جاری کیے رہو! اس دوران اگر____ تعبیر کی خوفناکی مُنہ زوری دِکھا کر میری سانس اُچک کر ہَم کو شکست دے چلے تو  تُمہارے آنگن میں کِھلتا پہلا گُلاب تُم پر میرا قرض ہو گا!  اپنے آنگن کا وہ پہلا گُلاب میری تُربت کے سرہانے سجا کر اس یقین کے ساتھ مُسکرا دینا کہ وہاں ماٹی کے اُس پار میں تُمہیں "پریتم" پکار کر مُسکرا رہی ہونگی!
Khawaab


*خواب*

کل شَب خَواب میں ایک خَواب دیکھا!

تَارے نے ٹوٹ کر مَن کی مُراد پالینے کو دعا کی طرف کھینچ لینے کی سعی میں سلگتی چنگاری اطراف میں بکھیری
مگر ہاتھ پہلو میں گِرے رہے!
کالی آندھی نے سبز پیڑ کو جڑ سے اُکھیڑ کر پتھریلی زمین پر پٹخ دیا
بَقا کے نارنجی پھول یہاں وہاں بکھر کر ایڑیاں رگڑنے لگے! 
نِیلے فلک کے شفاف کنارے خُون اگلنے لگے!
نظر کے سامنے چَاند تھا ناں سُورج!
دہکتی آنکھوں والا بدنما دیو ہیکل ہیولا اپنے نوکیلے ناخن والے ہاتھ پھیلاۓ دبوچ لینے کو میری جانب رُخ کیے ہوۓ تھا
خوف نے دِل کو حَلق میں اُچھال کر نیند کو جَاگ تھما کر جھنجھوڑ دیا ہے!
وجدان کی سراسیمگی حد سے سوا ہو کر سوال کر رہی ہے!
 
کیا اب خواب کی تعبیر کی تکمیل کے لیے 
"مُجھے مَر جانا ہوگا؟"

زندگی پہلو میں کھڑی سسکنے لگی ہے
لبوں کی مسکراہٹ میں نَمی بکھرنے لگی ہے!
اور میں 
اتنی جلدی کی میری موت کو یقین دلانے کی کوشش کررہی ہوں کہ اب ابھی میں تُمہارے لیے تھوڑا سا جی لینا چاہتی ہوں!

حیات کی درازی کے لیے میں تعبیر کی تکمیل کے مقابل وہ مخملی بکسا رکھ رہی ہوں جو ابھی ابھی میں نے تُمہارے لیے سجانا شروع کیا ہے!

دو حصوں میں بَٹا تُمہارے واسطے سجایا مخملی بکسا!
جس کے ایک حصے میں,میں نے تُم سے اکثر خفا ہوجاتے میرے دل کی شکایات کو چٹھی کی صورت بھرنا شروع کردیا ہے.
اور دوسرے حصے کو تُم سے میری محبت کے دلفریب رنگوں سے رنگنا کا آغاز کردیا ہے!

"تُم پر فرض ہے اب تُم مُجھ سے عِشق جیسا کچھ کرو"

تُم سے جُڑی نِسبت فِضا میں عِطریات کی سی مانند پھیل کر دِن کے اُجالے کی انگلی پکڑے دروازے پر دستک دے رہی ہے
میں نے کمرے کو اجالے سے بھر جانے کے واسطے سبھی کھڑیاں,دروازے کھول دیے ہیں!

سوچوں میں اُترے تُمہارے خیال کی بدولت بالوں میں بکھرتی سفیدی کو چنبیلی کی مانند چُٹیاں میں گوندھ لیا ہے.

"تُم بھی اب اپنے آنگن میں گلاب کی آبیاری کر لو"

جینے کی آرزو کی درازی کے لیے اپنا کاندھا پیش کر دو!
بادلوں کی سیڑھی پھلانگ کر فلک سے چاند لے آؤ!
مُٹھی بھر تاروں سے مانگ سجا دو ! 
جُگنوؤں کی ٹمٹماہٹ کو چُٹکی میں بھر کرآنکھوں میں کاجل کی مانند اُتار دو!
اَن کہی کو بِن کہے سُن لینے لگو!
جینے کی وجہ بنے رہنے کی کوشش جاری کیے رہو!
اس دوران اگر____
تعبیر کی خوفناکی مُنہ زوری دِکھا کر میری سانس اُچک کر ہَم کو شکست دے چلے تو

تُمہارے آنگن میں کِھلتا پہلا گُلاب تُم پر میرا قرض ہو گا!

اپنے آنگن کا وہ پہلا گُلاب میری تُربت کے سرہانے سجا کر اس یقین کے ساتھ مُسکرا دینا کہ وہاں ماٹی کے اُس پار میں تُمہیں "پریتم" پکار کر مُسکرا رہی ہونگی!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے