![]() |
| kahawten |
*اقتباس*
*کہاوتیں*
نانو اکثر کہا کرتی تھیں مرد ذات پر کبھی بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے....
کبھی مطلب, "کبھی بھی نہیں"
یہاں تک کہ اگر وہ اپنی بات کی یقین دہانی کے لیے جلتے توے پر چڑھ جاۓ تب بھی اس کی بات کا یقین نہیں کرنا چاہیے...."
ان کی ایسی باتیں ہمیشہ مجھ سے عمر میں بڑی میری کزنز کے لیے ہوا کرتی تھیں...
تب میں بہت چھوٹی ہوا کرتی تھی ان کی باتیں سن کر میرا منہ بہت خراب سے اینگل پر سیٹ ہو جایا کرتا تھا ان کو ایسا بولتا سن کر اپنے طور میں ان سے بہت خفا ہوجایا کرتی تھی اتنا خفا کے میں پھر بہت سارے دن ان کے گھر ان سے ملنے نہیں جایا کرتی تھی...
مگر ان کی باتیں میرا پلو پکڑے جیسے میرے ساتھ میرے گھر چلی آیا کرتی تھیں اس لیے میں ان کی باتوں سے الجھ کر اکثر خود سے سوالیہ رہا کرتی تھی
کیوں بولا نانو نے ایسا___؟؟
میرے ابو میرے چاچو میرے ماموں میرے بھائی, کزنز بھائی میرے ٹیچرز سبھی تو اتنے زیادہ اچھے ہیں کہ میں ان پر آنکھ بند کر کے یقین رکھتی ہوں
اور نانو کہتی ہیں یقین ناں کیا جاۓ____
میں یقین کو کنٹینیو تو رکھتی تھی مگر سچ کہوں تو ڈبل مائنڈ ہو کر نظر کو اپنوں کے لیے شک میں مبتلا ہو کر جائزہ لیتا محسوس کیا کرتی تھی....
سمجھ نہیں پاتی تھی کہ نانو نے ایسا کیوں بولا____
کیوں وہ کہتی ہیں کہ
مرد کے اندر ہمہ وقت جو ایک بچہ سانس لیتا ہے وہ منہ زور بھٹریا کی مانند ہوتا ہے جو کبھی بھی کہیں بھی انگڑائی لے کر بیدار ہوتا ہے اور تباہی مچا دیتا ہے____
آج نانو نہیں ہیں مگر ان کی باتیں اپنا آپ منواتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں
سمجھ آنے لگی ہیں
یہ جو چھوٹے ذہنوں کو بڑے نقصان سے بچانے کے لیے بڑے منہ سے بڑی باتیں بولی جاتی ہیں یہ سچ ہوتی ہیں
میں نہیں جانتی نانو نے اپنی زندگی کے مشاہدات میں کس کو کیسا پایا
مگر میں نے میری زندگی کے مشاہدے میں جانا
کہ ہاں مرد ذات بھروسے لائق نہیں ہوتی ہے
خیال رہے میں نے بولا #مرد_ذات
یہاں میں رشتوں کو درمیان نہیں لا رہی(محرم رشتے)
اور شاید وہاں نانو بھی رشتوں سے بالاتر ہو کر صرف مرد ذات ہی کے لیے بولا کرتی تھیں
ان کے وقت میں مرد بھروسہ توڑنے کے لیے نہیں معلوم کون سے ہتکنڈے استعمال کرتا ہوگا
چونکہ اس وقت تعلیم عام نہیں تھی مگر کم از کم ذہنوں میں مکروہات نہیں ہوتی ہوگی اور آج جب تعلیم کا عروج ہے پھر بھی ذہنوں میں مکروہات کی انتہا ہے___
اسی مکروہ ذہن سے جب آج کا تہذیب یافتہ مرد منصوبہ سازی کرتا ہے تو سب سے پہلے محبت کی چال چلتا ہے
کمینہ!!! پہلے گالی دیتا ہو گا تو وہ لفظ گالی ہی ہوتا ہوگا
اور اب جب تہذیب یافتہ مرد کا گالی دینے کا من ہوتا ہے تو وہ لفظ #محبت بولتا ہے
نانو سے ان کے وقت کے گنوار مرد کی خصوصیات پوچھ کر ان کو بتانا چاہتی ہوں کہ آج کے تہذیب یافتہ مرد کی مہذب گالی #محبت ہے
آج کے مرد کے اندر کا بچہ جب حوس کے بھیڑیا کو جگاتا ہے تو مرد #محبت کی رنگین گالی کو لبوں پر سجا کر عورت ذات کو بازاری بنا کر وہ تباہی مچاتا ہے کہ دل بے اختیار اعتراف میں چیخ اٹھتا ہے کہ
مرد ذات بھروسے لائق ہوتی ہی نہیں ہے پھر چاہے وہ جلتے توے پر چڑھ کر اپنا یقین دلانے کی کوشش کرے تب بھی وہ بھروسے لائق ہے ہی نہیں
مرد بھیڑیا تب بھی تھا اور آج بھی
بس بھیڑیا نے اپنی پرانی بد رنگی کھال اتار کر رنگین کھال سے خود کو خوبصورتی دے دی ہے
مگر عورت
تب بھی چوراہے پر کھڑی شوق سے گندی گالی سن کر دل کو دھڑکتا محسوس کرتی تھی اور آج بھی گالی کی رنگینیت میں پور پور ڈوب کر شوق سے بازاری بن جاتی ہے
گندی !!!
پاگل ..........


0 تبصرے