Subscribe Us

Antal Hayaat

 

*انت الحیات*  انت الحیات میرا مسئلہ تم ہو...! تم میں الجھ کر میں خود سے اس بری طرح الجھ چکی ہوں کہ اب اکثر بےدھیانی میں میرا ہاتھ جلا لیتی ہوں اب تمہارے واسطے میں اکثر تمہارے راستوں سے گزرتی تم کو تلاش رہی ہوتی ہوں.ایسے میں اگر کوئی ہاتھ پھیلاۓ مقابل آتا ہے تو میں میرے دونوں ہاتھوں کو سوالی ہاتھوں پر خالی کر کے بدلے میں خود سوالی بن کر "تُمہیں" مانگ لیا کرتی ہوں  اس بار سوچ رہی ہوں تمہیں مَٹی کا ایک دِل بنا بھیجوں اپنے لمس کی مسیحائی سے اسے دھڑکن دان کر سماعت کے ساتھ لگا کر محسوس کرنا ہر دھڑکن میں تُمہارا نام دھڑک رہا ہوگا  کل شَب بادلوں کی نمی جب برستی بوندوں کی صورت دھرتی پر اترنے لگی تھی میں نے سورت القدر پڑھ کر بند آنکھوں میں تُمہیں اتار کر پکارا تھا کیا تُم نے سن لیا تھا؟  سنو اے روحِ من تمہارے واسطے اکثر میں پیاس کی شدت کے باوجود پانی کا بھرا گلاس میز پر بھول کر اٹھ جاتی ہوں اور وہ جو میں کبھی لوگوں کے بیچ بات کے دوران بات بھول کر تمہارا نام لے دیتی ہوں گویا کہ حد کردیتی ہوں!  میرے محبوب ملکوتی مجھ میں کچھ ماٹی ہے سوندھی, کچھ اگنی , کچھ جل باقی سارے من میں تُم بن کا جوگ سمایا ہے کیا یہ ممکن العمل ہے کہ اس جوگن کے جوگ کے توڑ واسطے اب کی بار تُم کوئی جادوئی لفظ قلم پر اتارو؟ اس بار بارش میں تُم مجھے مانگو ؟ اس بار بےدھیانی میں تُم مجھے پکارو؟ میرے راستوں کے بیچ کھڑے ہوکر اس بار تُم میرا انتظار کرو؟ کسی مزار پر میرے نام کی منّت کا دھاگہ باندھ کر التجا میں سر جھکا لو؟ سڑک کنارے بیٹھ کر دھڑکتے دل سے طوطے کی فال کھولو؟ اور آئینے کے مقابل ہوکر اپنے عکس مین تُم مجھے تلاشو؟  یہاں میں تمہیں یہ بتانا بھول رہی ہوں کہ آئینہ میرے ساتھ اکثر شرارت پر مائل رہ کر کبھی لال چوڑی کو تمہارے ہاتھ کی صورت میری کلائی کے گرد لپیٹ کر لبوں کو مُسکا دیتا ہے,تو کبھی کاجل کی دھار میں تمہاری آنکھیں اتار دیتا ہے  میں کہہ لیتی ہوں میرے واسطے تمہاری آنکھیں سُکھ کی آخری پناہ گاہیں ہیں!  اے طرب خیز تُم مسکرا لیا کرو کہ تمہارے لبوں کی سنجیدگی میرے لیے بن چکے تُم کے مسئلے کی گھمبیرتا کو بڑھا کر مجھے اداس کردیا کرتی ہے میں مسکرا لینا چاہتی ہوں اور چاہتی ہوں اس بار تُم میرے سارے مسئلوں کا حل بن کر مجھے اپنا مسئلہ کرلو! اب تُم___ تُم سے میں ہو لو !
Antal Hayat


*انت الحیات*

انت الحیات
میرا مسئلہ تم ہو...!
تم میں الجھ کر میں خود سے اس بری طرح الجھ چکی ہوں کہ اب اکثر بےدھیانی میں میرا ہاتھ جلا لیتی ہوں
اب
تمہارے واسطے میں اکثر تمہارے راستوں سے گزرتی تم کو تلاش رہی ہوتی ہوں.ایسے میں اگر کوئی ہاتھ پھیلاۓ مقابل آتا ہے تو میں میرے دونوں ہاتھوں کو سوالی ہاتھوں پر خالی کر کے بدلے میں خود سوالی بن کر "تُمہیں" مانگ لیا کرتی ہوں

اس بار سوچ رہی ہوں تمہیں مَٹی کا ایک دِل بنا بھیجوں
اپنے لمس کی مسیحائی سے اسے دھڑکن دان کر سماعت کے ساتھ لگا کر محسوس کرنا ہر دھڑکن میں تُمہارا نام دھڑک رہا ہوگا

کل شَب بادلوں کی نمی جب برستی بوندوں کی صورت دھرتی پر اترنے لگی تھی
میں نے سورت القدر پڑھ کر بند آنکھوں میں تُمہیں اتار کر پکارا تھا کیا تُم نے سن لیا تھا؟

سنو اے روحِ من
تمہارے واسطے اکثر میں پیاس کی شدت کے باوجود پانی کا بھرا گلاس میز پر بھول کر اٹھ جاتی ہوں
اور وہ جو میں کبھی لوگوں کے بیچ بات کے دوران بات بھول کر تمہارا نام لے دیتی ہوں
گویا کہ حد کردیتی ہوں!

میرے محبوب ملکوتی
مجھ میں کچھ ماٹی ہے سوندھی, کچھ اگنی , کچھ جل باقی سارے من میں تُم بن کا جوگ سمایا ہے
کیا یہ ممکن العمل ہے کہ اس جوگن کے جوگ کے توڑ واسطے اب کی بار تُم کوئی جادوئی لفظ قلم پر اتارو؟
اس بار بارش میں تُم مجھے مانگو ؟
اس بار بےدھیانی میں تُم مجھے پکارو؟
میرے راستوں کے بیچ کھڑے ہوکر اس بار تُم میرا انتظار کرو؟
کسی مزار پر میرے نام کی منّت کا دھاگہ باندھ کر التجا میں سر جھکا لو؟
سڑک کنارے بیٹھ کر دھڑکتے دل سے طوطے کی فال کھولو؟
اور آئینے کے مقابل ہوکر اپنے عکس مین تُم مجھے تلاشو؟

یہاں میں تمہیں یہ بتانا بھول رہی ہوں کہ
آئینہ میرے ساتھ اکثر شرارت پر مائل رہ کر کبھی لال چوڑی کو تمہارے ہاتھ کی صورت میری کلائی کے گرد لپیٹ کر لبوں کو مُسکا دیتا ہے,تو کبھی کاجل کی دھار میں تمہاری آنکھیں اتار دیتا ہے

میں کہہ لیتی ہوں
میرے واسطے تمہاری آنکھیں سُکھ کی آخری پناہ گاہیں ہیں!

اے طرب خیز
تُم مسکرا لیا کرو
کہ
تمہارے لبوں کی سنجیدگی میرے لیے بن چکے تُم کے مسئلے کی گھمبیرتا کو بڑھا کر مجھے اداس کردیا کرتی ہے
میں مسکرا لینا چاہتی ہوں
اور چاہتی ہوں
اس بار تُم میرے سارے مسئلوں کا حل بن کر مجھے اپنا مسئلہ کرلو!
اب تُم___
تُم سے میں ہو لو !

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے