"واپسی" کے تیرے ہر راستے پر
اَرمانوں کے دیپ جلا کر
"بیوہ آنکھوں" سے انگلی پر
دِنوں کی گنتی گُھوم پھیرا کر
ہِجر کے بانس میں ٹَانک رہی ہوں
مِلن کی "آس" کا ہر وہ موتی___
جن میں چھپی میری ہر "اُدھڑی" خواہش___
خواہش یہ کہ جب تُم آنا___
ساتھ سنگھار کو سنگ تُم لانا
غازہ,مہندی,چوڑی,کاجل___
ماتھے کی بندیا,پاؤں کی پائل
لا چکو تو دیکھ بھی لینا
گُدلا پڑتا وہ ریشمی جوڑا___
تُم بن جو مُرجھا کر اترا
دیکھ چُکو تو توڑ کر لانا
فَلک پر چمکتا اَیک آدھ تارا
اُسے مانگ میں بھر کر سامنے آنا___
پھر مُجھ پر گزرے ہِجر کے ساغر کو چَکھ کر بتانا___
تُم بن مجھ پر کیسی گزری
کالی رَاتیں
پھیکی بَارش
اور بَتا سکوں تو یہ بھی بتانا
تُم بِن مُجھ پر جو بھی گزری___
گر تُم پر گزرتی تُم جِی لیتے__؟؟؟
فرح طاہر

0 تبصرے