اُداس آنکھوں کی اَن کہی کو کبھی تو سمجھو
کبھی تو سمجھو_!!!
گُھنیرے جنگل میں بکھرتی چاندنی کی بے رنگینی
وہ بے رنگینی جو اُداس آنکھوں کی چِلمن کے رستے دِل کے آنگن میں اُتر چکی ہے,اُتر رہی ہے
کبھی تو سمجھو__!!!
اُس آنگن کی ویرانیوں میں ویران ہوتا دِل کچھ مَر گیا ہے,کچھ مَر رہا ہے
کبھی تو سمجھو__!!!!
اُداس آنکھوں میں پِنپتے موتی
وہ موتی جن کی آبیاری میں ہِجر کے خنجر روح میں اُتر گئے ہیں,اُتر رہے ہیں
کبھی تو سمجھو__!!!
بَدن کے چہرے کے پیچھے چُھپی عِبارت
وہ عِبارت جس کے عُنوان کو "تُم" کیا ہے
وہ تُم کہوں تو تُمہی ہو ہَمدم
ہاں تُم !!
وہی تُم___جس سے لفظوں کی آڑ میں مخاطب ہوں کب سے__
وہ کب کو چھوڑوں اور اَب
اَبھی جو لفظوں کو پَرے دھکیلوں اور کہوں یہ تُم سے
اُداس دِل ہے,اُداس آنکھیں
اُداس میں بھی بہت ہوں کب سے___
اور کہوں جو میں اَبھی یہ تُم سے
کَبھی کو چھوڑو,اَبھی کو سمجھو
اَبھی تو سمجھو,تُمہی یہ سمجھو
فرح طاہر

0 تبصرے