| Tumhari Kami |
*تُمہاری کمی*
تُمہاری کمی
آنکھوں سے نیند لیکر
خواہش یہ دے گئی ہے کہ
کبھی____
رات کے اُس پہر
جب راہیں سنسان ہو
تاریکی کے بادل سیاہی اگل رہے ہو
میں___
تنہا گھر سے نکلوں
ننگے پاؤں
اتنا چلوں کہ___
پیروں کی نرمی آبلہ پا ہوکر
خون اگلنے لگے
پاؤں تھکنے لگے
میں چلتی رہوں__
اور چل کر گروں
گِروں اور گِر کر مُڑوں
اُس پَل
لمبی سٹرک کے آخری سرے سے
تُم___
مجھ سے ملنے کو آتے دِکھائی دو....
میں اُٹھوں
تُم پکارو___
میں پَلٹوں
تُم تڑپو
تُم ملنے کو آؤ
میں ملنے سے بھاگوں
تُم رؤو
میں دیکھوں
تُم بِلکوں
میں ٹھہروں
تُم بولو____
میں ہاروں
اور____
ہار کے ان لمحوں سے تھک کر
تُمہاری گود میں سَر رکھ کر
پُوری نیند سو لوں.....!!!!!!
فرح طاہر

0 تبصرے