Subscribe Us

Raja Rani Aik Kahani

*راجہ رانی ایک کہانی*   تیرے نام کے ہجوں میں میرے نام کےحَرفی نگینوں کو____ میں نے جذبوں سے تراشا تھا اور تراشے اُن نگینوں سے ایک "محل" بنایا تھا جہاں تُم سا ایک "راجہ"تھا اور مجھ سی "وہ" رانی تھی جو تتلی کے پروں جیسی ست رنگی ندی کنارے___ اُڑتی ہوئی زلفوں کو سمیت کر جب____ پانی میں اترتی تھی___ کُہساری کناروں سے "محبت" برستی تھی سورج کی سنہری کرنیں اِٹھلا کر اترتی تھیں... گلابوں کی نرم پتیاں لہرا کر چٹختی تھیں___ پرندوں کی زبانوں سے جو "دھن" بکھرتی تھی___ اس میں "رانی" کی اُس "راجہ" سے محبت کی نغمہ سرائی ابھرتی تھی___ اچھا تھا وہاں سب ہی,اور اچھی کہانی تھی پھر ایسا ہوا ایک دن___ نیند کی دیوی نے "راجہ" کو سلایا موقع سے مچل کر___ کہسار کے پیچھے سے ایک کانا دیو آیا___ جس نے اپنے بدنما پیروں کے گندے تلوؤں تلے رانی کی محبت کو مسل کر بہت کچلا___ اور لمبے ناخنوں سے رانی کی ہنسی کو بے دردی سے نوچا پھر اس کے سمٹےہوۓ بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر اُس زندان میں پٹخا___ جہاں اب "وہ" رانی ہے___ جو زندان کی کالی دیواروں پر اپنی تھکتی نگاہیں ٹِکاۓ___ راجہ کی بیداری کی آس میں پہلے تو سنورتی ہے___ پھر کانے دیو کی مکروہ ہنسی سن کرچپکے سے چٹختی ہے,بہت سارا تڑپتی ہے___ پھر نیند کی خواہش میں جاگتی آنکھوں سے خفا ہو کر خاموشی سے "جَگتی" ہے___!!!!
Raja Rani



*راجہ رانی ایک کہانی*

تیرے نام کے ہجوں میں
میرے نام کےحَرفی نگینوں کو____
میں نے جذبوں سے تراشا تھا
اور تراشے اُن نگینوں سے ایک "محل" بنایا تھا
جہاں تُم سا ایک "راجہ"تھا
اور مجھ سی "وہ" رانی تھی
جو تتلی کے پروں جیسی ست رنگی ندی کنارے___
اُڑتی ہوئی زلفوں کو سمیت کر جب____
پانی میں اترتی تھی___
کُہساری کناروں سے "محبت" برستی تھی
سورج کی سنہری کرنیں اِٹھلا کر اترتی تھیں...
گلابوں کی نرم پتیاں لہرا کر چٹختی تھیں___
پرندوں کی زبانوں سے جو "دھن" بکھرتی تھی___
اس میں "رانی" کی اُس "راجہ" سے محبت کی نغمہ سرائی ابھرتی تھی___
اچھا تھا وہاں سب ہی,اور اچھی کہانی تھی
پھر ایسا ہوا ایک دن___
نیند کی دیوی نے "راجہ" کو سلایا
موقع سے مچل کر___
کہسار کے پیچھے سے ایک کانا دیو آیا___
جس نے اپنے بدنما پیروں کے گندے تلوؤں تلے رانی کی محبت کو مسل کر بہت کچلا___
اور لمبے ناخنوں سے رانی کی ہنسی کو بے دردی سے نوچا
پھر اس کے سمٹےہوۓ بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر اُس زندان میں پٹخا___
جہاں اب "وہ" رانی ہے___
جو زندان کی کالی دیواروں پر اپنی تھکتی نگاہیں ٹِکاۓ___
راجہ کی بیداری کی آس میں پہلے تو سنورتی ہے___
پھر کانے دیو کی مکروہ ہنسی سن کرچپکے سے چٹختی ہے,بہت سارا تڑپتی ہے___
پھر نیند کی خواہش میں جاگتی آنکھوں سے خفا ہو کر خاموشی سے "جَگتی" ہے___!!!!


فرح طاہر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے