Subscribe Us

Mei Nay Jub bhe Tumhen Socha

*میں نے جب بھی تُمہیں سوچا*

میں نے جب بھی تُمہیں سوچا
ہر لفظ "مُحبت" لکھا___
میں نے لکھا کہ تُم محبت ہو
تو میں نے مُجھ کو فقط "دَاسی" تُمہاری لکھا__
میں نے لکھا کہ تُم فلک کے "تَارے" ہو
تو میں نے مُجھ کو اُس تَارے کا ایک "کِنارا" لکھا___
میں نے لکھا کہ تُم سے ملنے کی چاہ ہے
تو میں نے میری "چاہ" کو ہِجر کا دریا لکھا___
میں نے چاہا کہ میں پھر سے لکھوں میرے لفظوں کا "مَہکتا جَنگل"
مگر میں نے ہر بار درد کے کَرب کو تروتازہ لکھا___
میں نے چاہا کہ تُم سے ملنے کی رُودَاد کو سُہنری حرفوں کا سَمندر لکھ دوں
مگر میرے لکھنے کے قلم نے ہر بار تِشنگی کا کنارا لکھا___
میں نے چاہا کہ میں لکھ کر تصور کر لوں___
ہِجر کے دریا کو دَرد کی کناؤ سے پاٹ کر تُمہارے آنے کی گھڑی____
اور اس گھڑی میں,مَیں نے مُجھ کو گُلابوں سے آراستہ بس اِک رستہ لکھا___
میں نے چاہا کہ تُمہیں لکھ کر قَلمبند کرلوں__
مگر میرے قلم کی سِیاہی نے مُجھے "پَاگل" لکھا
میں نے چاہا کہ تُم کو فقط "مَیرا" لکھوں
مگر میرے قلم نے ہمیشہ مُجھ کو تُمہارا لکھا___

فرح طاہر

*میں نے جب بھی تُمہیں سوچا*  میں نے جب بھی تُمہیں سوچا ہر لفظ "مُحبت" لکھا___ میں نے لکھا کہ تُم محبت ہو تو میں نے مُجھ کو فقط "دَاسی" تُمہاری لکھا__ میں نے لکھا کہ تُم فلک کے "تَارے" ہو تو میں نے مُجھ کو اُس تَارے کا ایک "کِنارا" لکھا___ میں نے لکھا کہ تُم سے ملنے کی چاہ ہے تو میں نے میری "چاہ" کو ہِجر کا دریا لکھا___ میں نے چاہا کہ میں پھر سے لکھوں میرے لفظوں کا "مَہکتا جَنگل" مگر میں نے ہر بار درد کے کَرب کو تروتازہ لکھا___ میں نے چاہا کہ تُم سے ملنے کی رُودَاد کو سُہنری حرفوں کا سَمندر لکھ دوں مگر میرے لکھنے کے قلم نے ہر بار تِشنگی کا کنارا لکھا___ میں نے چاہا کہ میں لکھ کر تصور کر لوں___ ہِجر کے دریا کو دَرد کی کناؤ سے پاٹ کر تُمہارے آنے کی گھڑی____ اور اس گھڑی میں,مَیں نے مُجھ کو گُلابوں سے آراستہ بس اِک رستہ لکھا___ میں نے چاہا کہ تُمہیں لکھ کر قَلمبند کرلوں__ مگر میرے قلم کی سِیاہی نے مُجھے "پَاگل" لکھا میں نے چاہا کہ تُم کو فقط "مَیرا" لکھوں مگر میرے قلم نے ہمیشہ مُجھ کو تُمہارا لکھا___
Mei Nay Jub Bhi Tujhay Socha


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے