*کوئی شام ڈھلے ہم تُم سے ملیں*
کوئی شام ڈھلے
ہَم تُم سے مِلیں___
بَادل سے مِلتی سَت رَنگی دَھنک
بَارش سے مِل کر اُس رنگ بَرسے___
جِس رَنگ میں ہِجرکی آہ نِکلے
تِیری آنکھ میں وِصل کا دِیپ جلے___
مِیری آنکھ ہِجر کی نَاؤ بَنے___
تُم ہاتھ بڑھاؤ آغوش میں لو
مَیں بہت سَا تُم سے لَڑمَر لُوں
پھر بیٹھ مُقابل ہَم تُم جب
جو بَات کہیں وہ تَارے سُن کَر___
مَہتاب کِی ٹَھنڈی چَاندنی سے بھیگی آنکھوں فَریاد کریں___
اَب پھر سے ہِجر نہ اِن میں ہو
اَور وصلِ اَمر کی دُعا کریں__
اَےکاش کبھی تو ایسا ہو___
کوئی شام ڈھلے
ہَم تُم سے مِلیں___
فرح طاہر

0 تبصرے